ہفتہ, اپریل 17, 2021
ہفتہ, اپریل 17, 2021
HomeFact Checksبحرین کا بادشاہ باڈی گارڈ روبوٹ کے ساتھ نہیں پہنچا ہے دبئی

بحرین کا بادشاہ باڈی گارڈ روبوٹ کے ساتھ نہیں پہنچا ہے دبئی

بحرین کا بادشاہ اپنے روبوٹ باڈی گارڈ کے ساتھ 360 ڈگری پر نصب ہونے والے کیمروں اور بلٹ ان پستولوں کے ساتھ دبئی پہنچ گیا۔ ٹیکنالوجی تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

بحرین کے بادشاہ کے حوالے سے وائرل ویڈیو
Viral Video From Facebook

سوشل میڈیا پر روبوٹ والا ویڈیو ہوا وائرل

فیس بک پر ریڈیو وطن نامی پیج پر وائرل ویڈیو کو شیئر کیا ہے اور روبوٹ کو بحرین کے بادشاہ کا باڈی گارڈ بتایا ہے۔آرکائیو لنک۔

انپنا کوئٹہ نامی پیج پر بھی وائرل ویڈیو کو بحرین کے بادشاہ کاباڈی گارڈ ربوٹ والے دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

فیس بک پر ہندی زبان میں مذکورہ دعویٰ کے ساتھ وائرل ویڈیو کو غلام رسول رضوی اور سُدھار نامی یوزر نے شیئر کیا ہے۔دونوں کے آرکائیولنک یہاں کلک کر کے دیکھیں۔

ٹویٹر پر بھی وائرل ویڈیو کو کیاگیا شیئر

روشن ابھے سنگھ نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے وائرل ویڈیو میں نظر آرہے ربوٹ کو بحرین کے بادشاہ کا باڈی گارڈ بتا کر 14اگست کو شیئر کیا تھا۔آرکائیو لنک۔

Viral Video From Twitter

ربوٹ والے وائرل ویڈیو کو یوٹیوب پر بھی ٹرینڈ سیٹز نامی ہینڈل سے مذکورہ دعوے کے ساتھ 13اگست کو شیئر کیا گیاتھا۔آرکائیو لنک۔

Viral Video From YouTube

Fact Check/Verification

بحرینی بادشاہ کے باڈی گارڈ ربوٹ کے حوالے سے جب ہم نے ابتدائی تحقیقات شروع کی ۔اس دوران ہمیں وائرل ویڈیو البیان نیوز نامی آفیشل انسٹاگرام پر ایک پوسٹ ملا۔جس میں ہوبہو وہی ربوٹ نظر آرہا تھا۔ویڈیو میں ہیش ٹیگ ابوظہبی بھی لکھا ہوا ہے۔واضح رہے کہ اس ویڈیو کو 2019 میں اپلوڈ کیا گیا ہے۔

https://www.instagram.com/p/BuHyirhgnHe/?utm_source=ig_embed&utm_campaign=embed_video_watch_again
First Finding

کیا ہے ربوٹ والے وائرل ویڈیو کی سچائی

مذکورہ جانکاری سے یہ واضح ہوا کہ ربوٹ والا ویڈیو تقریباً ایک سال پرانہ ہے اور دبئی کا ہے۔پھر ہم نے کچھ ٹولس کی مدد سے کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں اليمن العربي نامی نیوز ویب سائٹ پر عربی زبان میں ربوٹ کے حوالے سے خبر ملی۔جو ہمارے سمجھ سے پرے تھا۔پھر جب ہم نے انگلش میں کچھ کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں خلیج ٹائمس نامی نیوز ویب پر وضاحت کے ساتھ 19فروری 2019 کی ایک خبر ملی۔خلیج ٹائمس کی خبر میں کہی بھی بحرین کے باشاہ کا ذکر نہیں کیاگیا ہے۔بلکہ اس ربوٹ کے بارے میں لکھا ہے کہ یو اے ای کے انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن میں 8فٹ لمبا اور 60کیلو کے ایک ربوٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔جو ہر آنے جانے والے کو السلام علیکم کہ کر استقبال کررہا تھا اور مہمانوں کی تفریح بھی کررہا تھا۔جس سے وہاں موجود لوگ بہت خوش تھے۔

ربوٹ کے حوالے سے خلیج ٹائمس کی رپوٹ

نیوزچیکر کی ٹیم نے وائرل ویڈیو کچھ کیورڈ کی مدد سے یوٹیوب پر سرچ کیا۔اس دوران دبئی 7نامی یوٹیوب چینل پر14فروری 2019 کو اپلوڈ کیا گیا وائرل ویڈیو ملا۔جس کے مطابق ابوظہبی میں 8فٹ لمبا ٹائٹن نامی ربوٹ نے انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن میں عوام سلام کیا اور اپنی مزاحیہ کلمات سے ان کادل بھی بہلایا۔

https://www.youtube.com/watch?v=L2bzTxny0XM
Final Finding

سبھی خبریں نظر آرہے ربوٹ کے ہاتھ اور سینے پر متحدہ عرب امارات کا جھنڈا نظر آیا۔کسی میں بھی بحرین کا جھنڈا ہمیں دیکھنے کو نہیں ملا۔درج ذیل میں دونوں ممالک کے الم کو دیکھ سکتے ہیں۔

دونوں تصاویر سے پتالگایا جاسکتا ہے کہ بحرین کے بادشاہ دبئی نہیں پہنچے ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے ربوٹ والا وئرل ویڈیو کابحرین کے بادشاہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نا ہی ربوٹ کے آگے بحرین کے بادشاہ چل رہے ہیں۔واضح رہے یہ ویڈیو ابوظہبی میں 8فٹ لمبا ٹائٹن نامی ربوٹ کا ہے۔جو انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن میں عوام کا دل بہلانے کےلیے رکھا گیا تھا۔

Result: Misplaced Context

Our Sources

Instagram:https://www.instagram.com/p/BuHyirhgnHe/?utm_source=ig_embed&utm_campaign=embed_video_watch_again

Elyamnelaraby:https://www.elyamnelaraby.com/Show/365820/%D8%A7%D9%84%D8%A5%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%AA%D8%A8%D8%AA%D9%83%D8%B1-%D8%B1%D9%88%D8%A8%D9%88%D8%AA-%D8%A8%D8%A7%D9%84%D8%B2%D9%89-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B3%D9%83%D8%B1%D9%89-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%84-%D9%81%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%8A%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%B6-%D8%A5%D9%8A%D8%AF%D9%8A%D9%83%D8%B3-2019

 Khaleejtimes:https://www.khaleejtimes.com/nation/abu-dhabi/video-8-ft-titan-robot-greets-visitors-at-uae-defence-show-idex-

Youtube:https://www.youtube.com/watch?v=L2bzTxny0XM

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Avatar
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular