جمعہ, ستمبر 24, 2021
جمعہ, ستمبر 24, 2021
HomeUrduامارات نےاسرائیل کےلئے پروازاڑانے سے انکار کرنے والے تُونسی پائلٹ کو نوکری...

امارات نےاسرائیل کےلئے پروازاڑانے سے انکار کرنے والے تُونسی پائلٹ کو نوکری سے نہیں نکالا ہے

سوشل میڈیا پر ایک خبر خوب گردش کررہی ہے۔جس میں یوزرس کا دعویٰ ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایک ایئر لائن نے تُونسی پائلٹ “مونیم صاحب” کو صرف اس وجہ سے نوکری سے نکال دیا کیونکہ انہوں نے اسرائیل کی جانب جہاز اڑانے سے انکار کردیا تھا۔پائلٹ نے کہا کہ مجھےاس نوکری سے نکالے جانےپر کوئی افسوس نہیں “

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل ہیں

حیدرآبادکاسیاست نیوز،جنگ نیوز اورجسارت نیوز نے بھی اس خبر کو شائع کیا ہے۔جبکہ پاکستان کی معروف نیوز ویب سائٹ جنگ اور نیوز ایکسپریس نے بھی اس خبر کو شائع کیا ہے۔وہیں جامعہ ورلڈ نامی فیس بک پیج پر اس خبر کو پائلٹ کی تصویر کے ساتھ شیئر کیا ہے۔جسے2ہزار یوزرس نے لائک کیا ہے۔جبکہ530 نےشیئر کیاہے۔

سیاست اردو نیوز کی خبر کا آرکائیو لنک۔

جنگ کی خبر کا آرکائیو لنک۔

ایکسپریس نیوز کا آرکائیو لنک۔

جسارت نیوز کاآرکائیو لنک۔

جامعہ ورلڈ کا آرکائیو لنک۔

معظم علی مصباحی کے ٹویٹر پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

صدائے عمارہ اشرف کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

اس کے علاوہ کئی پاکستانی یوزرس نے بھی اس خبر کو شیئر کیا ہے

https://www.facebook.com/116855440113835/photos/a.116870076779038/235496511583060/
https://www.facebook.com/Dawatanmazigary11/photos/a.534436356749210/1620964494763052/

Fact Check/Verification

وائرل خبر کے حوالے سے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی ۔سب سے پہلے ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں گلف نیوز اور العربیہ اردو پر شائع 13 ، 14جنوری 2021 کی خبریں ملیں۔جس کے مطابق  فضائی کمپنی الامارات ائیرلائنز نے اسرائیل کے لیے پرواز اڑانے والے  پائلٹ کا اخراج نہیں کیا ہے۔رپوٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایئرلائنس نے منعم الطابع نام کے کسی پائلٹ کو کبھی بھرتی نہیں کیا ہے۔

پھر ہم نے وائرل خبر کے حوالے سے مزید کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں غیرملکی صحافی سی جے ورلمین نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر وائرل خبر کے حوالے سے ایک ٹویٹ ملا۔جس میں ورلمین نے صاف طور پر واضح کیا ہے کہ انہیں جو امارات ایئرلائنس کے پائلٹ کے حوالے سے جو خبر موصول ہوئی تھی وہ فرضی ہے۔جس پر وہ شرمندہ ہیں اور انہوں نے اس ٹویٹ کو منسوخ بھی کردیا ہے۔

سبھی تحقیقات کے باجود ہمیں تسلی نہیں ملی تو ہم نے امارات ایئرلائنس کے ویب سائٹ اورآفیشل ٹویٹر ہینڈل کو کھنگالا۔اس دوران ہمیں امارات ایئرلائنس کا ٹویٹ ملا۔جس میں بتایا گیا ہے کہ امارات ائیرلائنس نے اس نام کے کسی بھی پائلٹ کو کبھی ملازمت پر نہیں رکھا ہے اور سوشل میڈیا پر جو بھی خبریں اس حوالے سے گردش کر رہی ہیں ، سب فرضی ہیں۔

خبر کے ساتھ جس تصویر کو شیئر کیا گیا ہے وہ شخص کون ہے؟جب ہم نے اس کی تحقیقات شروع کی تو ہمیں رؤیا نیوز اور لیبیا جیل نامی عربی زبان میں شائع 14جنوری2021 کی ایک خبر ملی۔جس میں وائرل تصویر کے حوالے سے معلومات دی گئی تھی۔جب ہم نے گوگل ٹرانسلیٹ کیا تو پتاچلاکہ جس شخص کو تونسی پائلٹ منعم صاحب الطابع بتایاجارہاہے وہ کوئی دوسراشخص ہے۔جس کا نام یحییٰ ابو شنب ہے اور وہ اردن کے پائلٹ ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تونسین پائلٹ منعم صاحب الطابع کے حوالے سے جو خبر گردش کررہی ہے وہ فرضی ہے۔دراصل امارات ایئرلائنس نے واضح کردیا ہے کہ اس نےکسی پائلٹ کو معطل نہیں کیا ہے اور نا ہی کوئی اس نام کا پائلٹ امارات ایئرلائنس میں نوکری کرتا ہے۔جس شخص کو منعم بتایا جارہاہے وہ اردن کا پائلٹ یحییٰ ابو شنب ہے۔

Result:False

Our Sources

UA:https://urdu.alarabiya.net/ur/international/2021/01/14/%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%B1%D8%AA-%D9%86%DB%92%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D9%BE%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%B2%D8%A7%DA%91%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D9%8F%D9%88%D9%86%D8%B3%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%D9%B9-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D8%B9%D8%B7%D9%84-%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D8%9F.html

GN:https://gulfnews.com/business/aviation/emirates-says-reports-about-airline-suspending-tunisian-pilot-are-false-1.1610551954162

CJTweet:https://twitter.com/cjwerleman/status/1349517765393084418

ET:https://twitter.com/emirates/status/1349329180274651137?s=20

Roya:https://royanews.tv/news/234967

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular