اتوار, اگست 1, 2021
اتوار, اگست 1, 2021
HomeUrduبرطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کی تصویر فرضی دعوے کے ساتھ وائرل۔ سچ...

برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کی تصویر فرضی دعوے کے ساتھ وائرل۔ سچ جاننے کے لئے پڑھیئے ہماری تحقیق

ان دنوں برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کی تصویر فیس بک اور ٹویٹر پر خوب گردش کر رہی ہے۔ جس میں پولس کی وردی میں کھڑا ایک شخص لڑکی کو مٹھائی کھلا رہا ہے۔ لڑکی کے بغل میں ایک خاتون بھی کھڑی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ یوزرس کا دعویٰ ہے کہ تصویر میں نظر آرہی لڑکی اے ایس آئی اشفاق خان کی بیٹی ہے۔ جسے کلیکٹر کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ وائرل پوسٹ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں

 برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کی وائرل تصویر
برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کی وائرل تصویر

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک یہاں، یہاں , یہاں اور یہاں دیکھیں۔

  کراؤڈ ٹینگل پر ہم نے جب وائرل پوسٹ کے حوالے سے کیورڈ سرچ کیا تو پتا چلا کہ پچھلے 3 دنوں میں 210,422 فیس بک یوزرس اس موضوع پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل میں موجود ہے۔

Fact Check / Verification

سوشل میڈیا پر وائرل تصویر کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں اسکرین پر وائرل تصویر سے متعلق متعدد لنک فراہم ہوئے۔ اسی کے ساتھ سرچ کے دوران اسکرین پر انگلش میں “اے ایس آئی اشفاق ڈاٹر آئی اے ایس” لکھا ہوا نظر آیا۔ جسے آپ درج ذیل میں موجود اسکرین شارٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔

اس حوالے سے کیورڈ سرچ کرنے پر ہمیں پولس سرویلینس نامی ویب سائٹ پر وائرل تصویر کے ساتھ ایک خبر ملی۔ رپورٹ کے مطابق تصویر میں نظر آرہی لڑکی برطانیہ اسکالرشپ یافتہ ہے اور اس کا نام شاہینہ اگوان ہے۔

پھر ہم نے اردو میں اس تعلق سے کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں ای ٹی وی بھارت اردو پر شائع 24 مئی 2021 کی ایک خبر ملی۔ جس میں برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کا انٹرویو بھی شائع کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تصویر میں نظر آرہی لڑکی اے ایس آئی اشفاق کی بیٹی نہیں ہے۔ بلکہ لڑکی کا نام شاہینہ اگوان ہے اور ان کے والد کا نام عشاق محمد ہے، جو راجستھان کے جھالاواڑ کے خانپور میں ڈی ایس پی دفتر میں اے ایس آئی ہیں، شاہینہ کی والدہ کا نام ریحانہ ہے اور وہ بینگلس کا کاروبار کرتی ہیں۔

برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کے حوالے سے شائع خبر
برطانیہ اسکالرشپ یافتہ لڑکی کے حوالے سے شائع خبر

بتادوں کہ شاہینہ کو برطانیہ کونسل کی جانب سے پندرہ ماہ تک ماسٹر آف سائنس کے لیے 40 لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی جائے گی، جس میں شاہینہ اگوان کا ویزہ، ٹیوشن فیس، رہائیش سے لے کر آنے جانے اور پڑھائی کا مکمل خرچہ شامل ہے۔ وہیں سرچ کے دوران ٹائمس آف انڈیا پر بھی خبر ملی۔جسے آپ یہاں کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

پھر ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سچ میں اے ایس آئی اشفاق خان نامی شخص کی بیٹی کلیکٹر بنی ہیں یا یہ بات محض افواہ ہے؟ پھر ہم نے اس حوالے سے کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں نیوز18 اردو اور پتریکا نیوز پر شائع 11 مئی 2016 کی خبریں ملیں۔ جس میں راجستھان کے دوسہ کے اشفاق حسین نامی شخص کی بیٹی فرح حسین نے آئی اے ایس کے امتحان میں 267 واں رینک حاصل کیا تھا۔ فرح کے والد اشفاق حسین دوسہ ضلع کے کلیکٹر ہیں۔

مذکورہ رپورٹس سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر میں نظر آرہی لڑکی کے والد کا نام اشفاق خان نہیں ہے اور نا ہی وہ لڑکی کلیکٹر کے عہدے پر فائز ہوئی ہے۔ درج ذیل میں موجود فوٹو شاپ کے ذریعے بنائی گئی تصویر کو دیکھ کر بخوبی موازنہ کیا جا سکتا ہے اور دونوں تصاویر مختلف لڑکی کی ہے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

دائیں جانب اے ایس آئی عشاق محمد اپنی برطانیہ اسکالرشپ یافتہ بیٹی شاہینہ کا منہہ میٹھا کراتے ہوئے اور بائیں جانب دوسہ کے کلیکٹر اشفاق حسین سول سروس میں کامیاب بیٹی فرح کے ساتھ۔

مذکورہ سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے شاہینہ کے والد عشاق محمد سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ہمیں فون کال کا جواب موصول نہیں ہوا۔ اگر ہمارا ان سے رابطہ ہوتا ہے تو ہم اپنے اس آرٹیکل میں ایپ ڈیٹ کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:یو پی ایس سی امتحانات میں مسلمانوں کو ہندو کے مقابل زیادہ مواقع فراہم کئےجاتے ہیں؟

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر میں نظر آرہی لڑکی کلیکٹر کے عہدے پر فائز نہیں ہوئی ہے اور نا ہی ان کے والد کا نام اشفاق خان ہے۔ بلکہ لڑکی کا نام شاہینہ اگوان ہے اور وہ برطانیہ اسکالرشپ یافتہ ہیں۔انہیں سال 2021-2022 کے لئے سائنس کے مضمون میں40 لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی گئی ہے۔ شاہینہ کے والد کا نام عشاق محمد ہے اور وہ راجستھان کے جھالاواڑ کے خانپور میں ڈی ایس پی دفتر میں اے ایس آئی ہیں۔

Result: Misleading

Our Source

Reverse Image search

Police surveillance

ETv bharat Urdu

Times of india

Patrika News

News18 Urdu

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular