جمعہ, دسمبر 9, 2022
جمعہ, دسمبر 9, 2022

HomeFact Checkٹھنڈ سے بچنے کے لئے کمبل ملتے ہی چلنے لگا معذور نواجوان!وائرل...

ٹھنڈ سے بچنے کے لئے کمبل ملتے ہی چلنے لگا معذور نواجوان!وائرل دعوے کا کیا ہے سچ؟ پڑھیئے ہماری پڑتال

دعویٰ

بی جے پی والے معذوروں میں کمبل تقسیم کئے۔لیکن معذور نوجوان کیمرہ بند ہونے سے پہلے ہی چلنے لگا۔

 

تصدیق

سوشل میڈیا پرلوگ جہاں اچھی خبریں ارسال کرتے ہیں۔وہیں غلط اور جھوٹے دعوے کے ساتھ بھی مضحکہ خیز خبریں اپلوڈ کرکےعوام میں گمراہی پھیلاتے ہیں۔حال کہ دنوں میں پچیس سکینڈ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کے ساتھ خوب وائرل ہورہاہے۔جس کے ذریعے کچھ یوزرس عام آدمی پارٹ کو نشانہ بنارہے ہیں تو کچھ بی جے پی و دیگر کو۔وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لئے ہمارے ایک قاری نے ہمیں جانچ کے لئےوائر ویڈیو بھیجا۔جو مندرجہ بالا میں موجود ہے۔

ہماری کھوج

سوشل میڈیا پر ملی جانکاری کے بعد ہمیں پتا چلا کہ یہ ویڈیو کافی دنوں سے مختلف دعوے کے ساتھ وائرل ہورہاہے۔پھر ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔تب ہم نے انوڈ کی مدد سے ویڈیو کا کیفریم نکال کر گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں اسکرین پر اس تعلق سے کچھ خبریں ملیں۔جس کا اسکرین شار مندرجہ ذیل ہے۔

اسکرین پر ملی جانکاری سے یہ واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو اترپردیش کے بجنورکے سہورا تھانہ کا ہے۔پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا تو سرکل اور ابھی تک نامی ویب چینل پر وائرل ویڈیو ملا۔جس کے مطابق ڈیجیٹل ساکشرتا تنظیم کی جانب سے لوگوں کو وہیل چیئر پر بٹھاکر کمبل تقیسم کیا گیا۔جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوگیا۔

یوٹیوب پر ملی جانکاری کے بعد ہم نے سوچا کیوں نہ ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں جو لکھا ہے اس نام سے سرچ کیا جائے تاکہ پتا چل جائے کہ ویڈیو کی سچائی کیا ہے۔پھر ہم نے ٹویٹر اور فیس بک پر ڈیجیٹل ساکشر نام سے سرچ کیا۔جہاں ہمیں اس تعلق سے اخبار کے کئی کٹنگ کے ساتھ ایک ٹویٹ اور فیس بک پوسٹ ملا۔جس کے مطابق تنظیم کے ڈائریکٹر روی سینی نے معذوروں میں ٹھنڈ سے بچنے کے لئے کمبل تقسیم کیا۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو اترپردیش کے بجنور سے متصل سہورا گاؤں کا ہے۔جہاں ڈیجیٹل ساکشر نامی تنظیم نے غیر معذور لوگوں کو معذور کی شکل دے کر کمبل تقسیم کیا تھا۔تاکہ سرکار سے اس عوض میں اچھا پیسا اینٹھا جائے۔

ٹولس کا اسعمال

گوگل کیورڈ سرچ

فیس بک ٹویٹر ایڈوانس سرچ

یوٹیوب سرچ

انوڈ سرچ

نتائج:گمراہ کن(جھوٹادعویٰ)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

9999499044

 

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular