جمعرات, جون 20, 2024
جمعرات, جون 20, 2024

ہومFact CheckWeekly Wrap: ایران دھماکہ اور جاپان میں آنے والے زلزلے سے منسوب...

Weekly Wrap: ایران دھماکہ اور جاپان میں آنے والے زلزلے سے منسوب مختصر فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

سوشل میڈیا پر اس ہفتے ایران میں قاسم سلیمانی کے مقبرے کے قریب دو دھماکے اور جاپان میں ایک جنوری کو آنے والے زلزلے سے منسوب کرکے ویڈیوز اور تصاویر کو فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ جس کا مختصر فیکٹ چیک درج ذیل میں پڑھیں۔

کیا ایران کے کرمان میں ہوئے تازہ دھماکے کی ہے یہ تصویر؟

سوشل میڈیا پر ایک تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے کرمان میں قاسم سلیمانی کے مقبرے کے قریب دو دھماکے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے۔ جبکہ تحقیقات سے واضح ہوا کہ وائرل تصویر تقریبا 5 سال پرانی ہے اور اس کا تازہ کرمان میں ہوئے دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مہلوکین کی تعداد 100 سے زائد ہیں۔ پورا فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

کیا جاپان میں حالیہ زلزلے کے بعد سونامی کی ہے یہ وائرل ویڈیو؟

سوشل نٹورکنگ سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یہ جاپان میں حالیہ زلزلے کے بعد سونامی کی وجہ سے ساحل سے ٹکرا رہی بحری کشتیوں کی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ویڈیو 12 سال پرانی اور جاپان کے میاکو میں آئی سونامی کی ہے۔ یہاں پڑھیں پورا فیکٹ چیک ۔

کیا سیلابی ریلے میں تیرتی ہوئی گاڑیوں والی یہ ویڈیو جاپان میں آئے حالیہ زلزلے کی ہے؟

سوشل میڈیا پر سیلابی ریلے میں تیرتی ہوئی گاڑیوں کی ایک ویڈیو کو جاپان میں آنے والے تازہ زلزلے کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ ویڈیو 2011 میں جاپان میں زلزلے کے بعد آئے سیلاب کی ہے۔ پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔

کیا حوثیوں کی جانب سے اسرائیل سے وابستہ بحری جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی ہے یہ تصویر؟

سوشل میڈیا پر ایک بحری جہاز کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یہ تصویر حوثیوں کی جانب سے اسرائیل سے وابستہ بحری جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کی ہے،جبکہ تحقیقات سے پتاچلا کہ یہ تصویر تقربیاً 4 سال پرانی ہے۔ پورا فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular