جمعہ, دسمبر 3, 2021
جمعہ, دسمبر 3, 2021
HomeFact Checkدشہرے کی ریلی پر سکھوں نے نہیں چڑھائی گاڑی: گمراہ کن دعوے...

دشہرے کی ریلی پر سکھوں نے نہیں چڑھائی گاڑی: گمراہ کن دعوے کے ساتھ ویڈیو وائرل

سوشل میڈیا پر ایک 25 سیکینڈ کا ویڈیو خوب شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس میں ایک تیز رفتار گاڑی بھیڑ کو کچلتے ہوئے نظر آرہی ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ دہلی میں دشہرے کی ریلی پر سکھوں نے گاڑی چڑھادی ہے۔ کچھ صارفین کا دعویٰ کے کہ سکھ لیڈر نے ہندؤں سے لکھیم پور واقعے کا بدلہ لینے کے لئے ان کی ریلی کو کچل دیا۔

دشہرے کی ریلی پر سکھوں کے گاڑی چڑھانے کا منظر۔ وائرل پوسٹ
وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

لکھیم پور میں کسانوں پر گاڑی چڑھانے والے واقعے کے بعد ایک بار پھر اسی طرح کا ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ جس کے ساتھ مختلف دعوے کئے جا رہے ہیں۔ اس ویڈیو سے متعلق کچھ صارفین کا دعویٰ ہے کہ “پہلے ہندوں دہشت گرد تنطیم آر ایس ایس نے “آزاد خالصتان تحریک” کی ریلی پر گاڑی چڑھائی، سکھوں کو شہید کیا، اب بدلے میں سکھ لیڈر نے بھی ہندو انتہاپسندوں کی ریلی کو کچل دیا۔ یہ ہوتا ہے بدلہ، خون کے بدلے خون۔ بھارتی مسلمان کو بھی سکھوں سے سیکھنا چاہیے، ہندوں کو پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی”۔

کچھ صارفین کا اس ویڈیو سے متعلق دعویٰ ہے کہ “دہلی میں سکھوں کی جانب سے ہندو دہشت گرد آرآر ایس(آر ایس ایس) والو کو خاص نشانہ بنایا گیا۔ آر آر ایس کی ریلی میں آزاد خالصتان تحریک کے کارکن مرسنگھ سردار نے گاڑی سے 14ہندو دہشت گردوں کو پوری طرح کچل دیا”۔ اس ویڈیو کو فیس بک اور ٹویٹر پر متعدد صارفین نے شیئر کیا ہے۔ درج ذیل میں وائرل پوسٹ کا اسکرین ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔

Factcheck/Verification

دہلی میں دشہرے کی ریلی پر گاڑی چڑھانے کے حوالے سے وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔ سب سے پہلے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے کچھ فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ٹائمس آف انڈیا، فری پریس، ری پبلک بھارت اور دی انڈین ایکسپریس پر شائع 15 اور 16 اکتوبر 2021 کی خبریں ملیں۔

سبھی رپورٹس کے مطابق وائرل ویڈیو چھتیس گڑھ کے جشپور کا ہے۔ جہاں کار سوار دو افراد نے دشہرے کی ریلی پر گاڑی چڑھا دی تھی۔ اس حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی، جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کار سوار دو افراد کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ جن میں سے ایک کی شناخت ببلو وشکرما اور دوسرے کی شیشوپال ساہو کے طور پر کی گئی ہے۔

دشہرے کی ریلی کا منظر فری پریس پر شائع
دشہرے کی ریلی کا منظر فری پریس پر شائع خبر کا اسکرین شارٹ

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ملزمین اپنے کار میں گانجا(بھنگ) لےکر پولس پوسٹ سے چھپ کر بھاگ رہا تھا۔ اس دوران سڑک پر دشہرے کی ریلی میں جارہے لوگوں کو کچل دیا، بعد میں مشتعل لوگوں نے گاڑی میں آگ بھی لگا دی تھی۔

مذکورہ رپورٹس سے واضح ہوچکا کہ یہ حادثہ دہلی میں پیش نہیں آیا ہے اور ناہی دشہرے کی ریلی پر گاڑی چلانے والا شخص سکھ مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر ہم نے یہ سرچ کیا کہ کیا کوئی تنظیم “آزاد خالصتان تحریک نام سے ہے یا اس کا کارکن مرسنگھ سردار” ہے۔ لیکن ہمیں اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر کوئی رپورٹ یا جانکاری نہیں ملی۔ البتہ جنگ نیوز ویب سائٹ پر “آزاد خالصتان کی تحریک” کے عنوان پر ایک مضمون ملا۔ جس میں خالصتان تحریک کے سلسلے میں بتایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کشمیر میں مسلم خاتون کی درخت سے لٹکا کر پٹائی کی جار رہی ہے؟

سرچ کے دوران ہمیں آج تک نیوز ویب سائٹ پر ایک خبر ملی۔ رپورٹ میں پولس کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ درگا وسرجن کرنے جا رہے لوگوں کو کچلنے والے دونوں ملزمین کافی دنوں سے گانجا کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ حادثے کے دن دونوں اڈیشہ سے مدھیہ پردیش بھنگ اسمگلنگ کرنے جا رہے تھے، تبھی یہ خوفناک حادثہ رونما ہوا۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ دشہرے کی ریلی والی وائرل ویڈیو دہلی کی نہیں ہے، بلکہ چھتیس گڑھ کے جشپور کی ہے۔ دراصل درگا وسرجن کرنے جا رہے عقیدت مندوں کو گانجا اسمگلر ببلو وشکرما اور شیشوپال ساہو نام کے شخص نے کچلا تھا۔ اس کا تعلق سکھ کسان اور لکھیم پور واقعے سے بھی نہیں ہے۔


Result: False Connection


Our Sources

Republicworld

Indianexpress

FreePress

TimesofIndia

AajTak


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular