ہفتہ, جون 22, 2024
ہفتہ, جون 22, 2024

ہومFact CheckFact Check: ایفل ٹاور کے نزدیک ہوئے دھماکے کی تصویر کو حالیہ...

Fact Check: ایفل ٹاور کے نزدیک ہوئے دھماکے کی تصویر کو حالیہ مظاہرے سے منسوب کرکے شیئر کیا جا رہا ہے

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

سوشل میڈیا پر ایفل ٹاور کی ایک تصویر کو حالیہ پرتشدد مظاہرے سے منسوب کرکے مختلف کیپشن کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔ تصویر میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایفل ٹاور کے قریب دھواں فضاء کو چھوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ تصویر کے ساتھ ایک ٹویٹر صارف نے لکھا ہے کہ “گستاخ فرانس اپنی آگ کے لپیٹ میں”۔

ایفل ٹاور کے قریب کی اس تصویر کا تعلق حالیہ فرانس مظاہرے سے نہیں ہے۔
Courtesy: Twitter @313Baaz70052

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact

ایفل ٹاور کے قریب دھوئیں والی تصویر کو ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 21 جون 2023 کو شیئر شدہ یوکرینی نیوز ویب سائٹ کیف پوسٹ کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ہوبہو تصویر کے ساتھ ویڈیوز ملیں۔ جس میں اس تصویر کے سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیرس میں ہوئے ایک دھماکے کی ہے۔

پھر ہم نے پیرس ایکسپلوزن کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں مذکورہ تصویر کے ساتھ شائع جون 2023 کی دی سن، دی ٹیلی گراف یوکے سمیت کئی میڈیا رپوٹس ملیں۔ ان رپورٹس کے مطابق ایفل ٹاور کے قریب دھوئیں والی تصویر پیرس میں ہوئے گیس دھماکے کے بعد کی ہے۔ حادثے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

لہٰذا نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل تصویر پرانی اور پیرس میں ہوئے گیس حادثے کے بعد کی ہے۔

Result: Missing Context

Our Sources
Tweet by @KyivPost on 21 Jun 2023
Reports published by The Sun and The Telegraph on 21 Jun 2023


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular