اتوار, جولائی 21, 2024
اتوار, جولائی 21, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا یہ ویڈیو غیر اسلامی ادارے میں مسلمان لڑکی کے...

Fact Check: کیا یہ ویڈیو غیر اسلامی ادارے میں مسلمان لڑکی کے ساتھ ہو رہے تشدد کی ہے؟ پوری حقیقت یہاں جانیں

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
یہ ویڈیو ایک غیر اسلامی ادارے کی ہے۔ جہاں مسلمان لڑکی کے ساتھ تشدد کیا جا رہا ہے۔
Fact
ویڈیو انڈونیشیاء کے محمدیہ بطوہ جونیئر ہائی اسکول کی ہے، جہاں یہ واقعہ فروری 2020 میں پیش آیا تھا۔

بھارتی سوشل میڈیا صارفین 29 سکینڈ کی ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں، جس میں تین لڑکے ایک حجابی لڑکی کو زد وکوب کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو ایک غیر اسلامی ادارے کی ہے۔ جہاں مسلمان بچی کے ساتھ تشدد کیا جا رہا ہے۔

فیس بک، ایکس(ٹویٹر) اور واہٹس ایپ صارفین نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “یہ دیکھیے کیا ہو رہا ہے۔ اگر خدا کی دی ہوئی بصارت آپ کی آنکھوں میں موجود ہو تو اس معاملے کو دیکھیے اور ان غیر اسلامی اداروں کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجئے! ہمارے اسلامی ادارے ہوتے تو ہماری بہن بیٹیوں کے ساتھ یہ شیطانی حرکتیں نہ ہوتیں”۔

یہ ویڈیو غیر اسلامی ادارے میں مسلمان لڑکی پر کئے جا رہے تشدد کی نہیں ہے، بلکہ انڈونیشیاء کے ایک اسلامی اسکول کا معاملہ ہے۔
Courtesy: Facebook/Shoaib Ansari

Fact Check/Verification

غیر اسلامی ادارے کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کے ایک فریم کو ہم نے گوگل ین ڈیکس سرچ کیا۔ جہاں ہمیں انڈونیشیاء کی نیوز ویب سائٹس دیتک نیوز، کیپو، اربناسیا، انڈو پولیٹیکا اور یوٹیوب چینلس پر فروری 2020 کو اپلوڈ شدہ ہوبہو ویڈیو انڈونیشیائی زبان میں ملیں۔ ترجمہ کرنے پر معلوم ہوا یہ واقعہ انڈونیشیاء کے سینٹر جاوا کے محمدیہ بطوہ جونیئر ہائی اسکول میں پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں تینوں نابالغ ملزموں پر قانونی کاروائی بھی کی گئی تھی۔

Courtesy: Detik News

مزید سرچ کے دوران ہمیں کوکونٹس نامی نیوز ویب سائٹس پر وائرل ویڈیو سے متعلق انگلش زبان میں 13 فروری 2020 کی ایک رپورٹ ملی۔ جس میں دی گئی معلومات کے مطابق وائرل ویڈیو انڈونیشیا کے سینٹرل جاوا کے پرواریجو ریجنسی میں واقع محمدیہ بطوہ جونیئر ہائی اسکول کی ہے۔ یہ اسکول ایک اسلامی نجی اسکول ہے۔ جہاں 16 سالہ معذور لڑکی کو اس کے تین ہم جماعت لڑکوں نے زد و کوب کیا تھا۔ اسکول ٹیچر کے مطابق متاثرہ نابالغ لڑکی کے ساتھ لڑکوں نے اس واقعے کو آٹھویں جماعت کے ایک کلاس روم میں سرانجام دیا تھا۔

Courtesy:Coconuts Jakarta

محمدیہ بطوہ جونیئر ہائی اسکول سے ہم نے ملزم لرکوں کے سلسلے میں معلومات کا مطالبہ ای میل کے ذریعے کیا ہے، جواب ملتے ہی اس آرٹیکل کو اڈیٹ کردیں گے۔

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ غیر اسلامی ادارے میں حجابی لڑکی کے ساتھ ہو رہے تشدد کا بتاکر شیئر کی گئی یہ ویڈیو پرانی اور انڈونیشیاء کے نجی اسلامی اسکول محمدیہ بطوہ جونیئر ہائی اسکول میں پیش آئے واقعے کی ہے۔

Result: False

Sources
Reports published by Detik News, Urbanasia, Indopolitika and coconuts on Feb 2020
YouTube videos published by KOMPASTV and BINUSTV Channel on Feb 2020


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular