منگل, جولائی 23, 2024
منگل, جولائی 23, 2024

ہومFact CheckFact Check: رشوت مانگنے پر سرکاری دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں کی...

Fact Check: رشوت مانگنے پر سرکاری دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں کی وائرل تصویر کی جانیں پوری حقیقت

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں کی ایک تصویر سوشل میڈیا صارفین شیئر کر رہے ہیں ۔ جس میں ایک شخص زمین پر زندہ سانپ چھوڑتے ہوئے نظر آرہا ہے اور وہاں موجود باقی لوگ بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارت کا تازہ ترین معاملہ، کسانوں نے رشوت مانگنے پر سرکاری دفتر میں 40 سانپ چھوڑ دئیے۔

دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں کی یہ تصویر 12 سال پرانی ہے۔
Courtesy: Facebook/ bestdua

صارفین نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “بھارتی جنتا بھی اپنی طاقت کو پہچان رہی ہے۔ تازہ ترین صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ ہوا یوں کہ انڈیا میں افسروں نے کسانوں سے رشوت مانگی۔ کسان بوریوں میں 40 سانپ ڈال کر لے آئے. اور دفتر میں رکھ کر باھر سے تالا لگا دیا۔ جب سانپ نکل کر پھنکارنے لگے تو افسر میزوں پر چڑھ کر معافیاں مانگنے لگے اور کسانوں کا کام کرنے کا وعدہ کیا تو دروازہ کھولا گیا”۔

دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں کی یہ تصویر 12 سال پرانی ہے۔
Courtesy: Twitter @paglii_dewanii

Fact

دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں والی تصویر کو سب سے پہلے ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں 30 نومبر 2011 کو وائرل تصویر کے ساتھ شائع شدہ بی بی سی کی رپورٹ ملی۔ جس میں مقامی صحافی مظہر آزاد کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ہَکل نامی ایک سپیرے نے غصے میں آ کر درجنوں سانپ ایک سرکاری دفتر میں چھوڑ دیئے تھے۔

دراصل ہَکُل خان کافی دنوں سے اپنے سانپوں کو رکھنے کے لئے ایک زمین کی مانگ کر رہے تھے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ تک سے اس کے لئے درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق سینئر حکام کی جانب سے ان کی درخواست منظور بھی کر لی گئی تھی۔ مگر مقامی آفیسر اس میں دیری کر رہے تھے، جس وجہ سے تنگ آ کر انہوں نے یہ قدم اٹھایا تھا۔

Courtesy: BBC

مزید سرچ میں ہمیں انڈیا ٹوڈے کی بھی 2011 میں شائع ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ اس رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ یو پی کے بستی ضلع کے ہریا کا ہے۔ مقامی تحصیلدار سبھاش منی تریپاٹھی نے آئی اے این ایس سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ہکل نے سرپنٹیریم(سانپ رکھنے کی جگہ) بنانے کے لئے زمین کی مانگ کی تھی، لیکن ایسا کوئی بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے ہم انہیں کوئی جواب نہ دے سکے۔ جس پر ہکل نے ان کے آفس میں سانپ چھوڑ دیئے۔

ہکل نے بھی میڈیا سے بات چیت میں بتایا کہ ان کے پاس ضلع افسر کی جانب سے جاری کردہ لیٹر تھا، جس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ انہیں مفت میں زمین مہیا کروائی جائے گی، مگر ان کے رشوت دینے سے انکار کرنے پر مقامی آفیسر اس معاملے کو طول دے رہے تھے۔ جس وجہ سے ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

Courtesy: India Today

لہذا نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ دفتر میں چھوڑے گئے سانپوں والی وائرل تصویر تقریبا 12 سال پرانی اور اترپردیش کے بستی ضلع کے ہکل خان نامی سپیرے نے مقامی افسروں سے تنگ آکر سرکاری دفتر میں درجنوں سانپ چھوڑ دیئے تھے۔

Result: Missing Context

Sources
Reports published by BBC and India Today on 2011


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس چینل بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular