ہفتہ, جون 15, 2024
ہفتہ, جون 15, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا بھارتی پولس کے کشمیری لڑکی کو گھسیٹنے کی ہے...

Fact Check: کیا بھارتی پولس کے کشمیری لڑکی کو گھسیٹنے کی ہے یہ تصویر؟

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
بھارتی فورس کشمیری لڑکی کو گھسیٹتے ہوئے۔
Fact
اس تصویر میں پاکستانی پولس لبرٹی لاہور میں عمران خان کی حمایت میں احتجاج کر رہی ایک لڑکی کو گھسیٹ رہی ہے۔ بھارت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔ اسی کے پیش نظر سوشل میڈیا صارفین عمران خان کی حمایت میں ہو رہے احتجاج سے منسوب کرکے طرح طرح کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ ان دنوں ٹویٹر پر ایک خاتون کی تصویر شیئر کی جا رہی ہے، جس میں پولس خاتون کو گھسیٹ رہی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس تصویر میں بھارتی فورس کشمیری لڑکی کو گھسیٹ رہی ہے۔

کشمیری لڑکی کو گھسیٹنے کی نہیں ہے یہ تصویر۔
Courtesy: Twitter @PatrioticWsi

Fact Check/ Verification

لڑکی کو گھسیٹنے والی وائرل تصویر کو ہم نے سب سے پہلے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہندوستان ٹائمس اور دی نیو انڈیا کے آفیشل یوٹیوب چینل پر ویڈیو رپورٹ ملی۔ جس میں وائرل تصویر جیسے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کو 11 اور 12 مئی 2023 کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق جس لڑکی کو پولس گھسیٹ رہی ہے وہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔ تبھی پولس نے اسے حراست میں لینے کے لئے گھسیٹا تھا۔

Screenshot of Hindustan Times

مزید سرچ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے مختلف حلقے کے نام پر بنے ہینڈلس اور پاکستانی صارفین کی جانب سے اس تصویر کو شیئر کیا گیا ہے۔ جس میں پولس کی گرفت میں نظر آرہی لڑکی پر لبرٹی لاہور میں کئے گئے پولس تشدد کا بتایا گیا ہے۔ یہاں یہ واضح ہو گیا کہ یہ تصویر بھارتی پولس کے کشمیری لڑکی کو گھسیٹنے کی نہیں ہے۔

Courtesy: Twitter @AABakar

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ پولس کے لڑکی کو گھسیٹنے والی وائرل تصویر کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے نہیں، بلکہ پاکستانی پولس کی جانب سے عمران خان کی حمایت میں مظاہرہ کر رہی خاتون پر کئے گئے تشدد کی ہے۔

Result: False

Our Sources
Video reports published by Hindustan Times and The New Indian on 11, 12 May 2023
Tweets by @AABakar and @PTIOfficialRWP on 10 May 2023

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular