اتوار, جولائی 21, 2024
اتوار, جولائی 21, 2024

ہومFact CheckFact Check: کرکٹر بابر اعظم کے کار حادثے کی فرضی خبر وائرل،...

Fact Check: کرکٹر بابر اعظم کے کار حادثے کی فرضی خبر وائرل، جانیں اصل حقیقت

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

فیس بک پر جیو نیوز کی مختلف ویڈیو رپورٹس کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی کرکٹر بابر اعظم ایک کار حادثے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ 

کرکٹر بابر اعظم کے کار حادثے کی فرضی خبر وائرل
Courtesy: Facebook/ Azam-1

Fact

بابر اعظم کے کار حادثے میں زخمی ہونے والے دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے بابر اعظم کے سوشل میڈیا ہینڈلس کو کھنگالا۔ جہاں ہمیں ایسی کوئی پوسٹ نہیں ملا، جس میں ان کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہو۔ البتہ 14 مئی کو یوم والدہ کے موقع پر بابر اعظم نے اپنی ماں کے ساتھ تصویر شیئر کیا ہے۔ جس میں وہ بالکل صحتیاب نظر آرہے ہیں۔ گوگل پر بھی ہم نے کیورڈ سرچ کیا۔ لیکن وہاں بھی ہمیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی، جس میں بابر اعظم کے کار حادثے میں زخمی ہونے کا ذکر ہو۔

کرکٹر بابر اعظم کے کار حادثے والے دعوے کی کیا ہے پوری حقیقت؟

وائرل دعوے سے متعلق ہم نے پاکستان کے سینئر صحافی کامران ساقی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ “بابر اعظم کے کار حادثے کی خبر بے بنیاد ہے۔ ایسی خبریں اپنے فیک پیجز کے لائکس بڑھانے کے لئے پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ خبر 5 مئی کو وائرل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بابر اعظم کو 14 مئی یوم والدہ کے موقع پر اپنی والدہ کے ساتھ تصویر میں صحت مند کھڑے دیکھا جا سکتا ہے”۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی کرکٹر بابر اعظم کی شادی کی خبر بے بنیاد

اس طرح ہماری تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کرکٹر بابر اعظم کے کار حادثے میں زخمی ہونے کی خبر بے بنیاد ہے۔

Result: False

Our Sources
Cricketer Babar Azam social media handles


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular