جمعرات, جون 20, 2024
جمعرات, جون 20, 2024

ہومFact Checkپشاور پولس لائنز کی مسجد میں ہوئے دھماکے کی نہیں ہے یہ...

پشاور پولس لائنز کی مسجد میں ہوئے دھماکے کی نہیں ہے یہ تصویر

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

پاکستانی نیوز ویب سائٹ جیو اردو کی 30 جنوری 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور پولس لائنز کی مسجد میں خودکش دھماکے میں 44 افراد کی موت ہوگئی، جبکہ 157 زخمی ہوئے ہیں۔ اسی کے پیش نظر سوشل میڈیا پرایک مسجد کے اندر کی تصویر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ دعویٰ ہے کہ یہ تصویر پیر کے روز ہوئے پشاور پولس لائنز کی مسجد میں ہوئے دھماکے کے بعد کی ہے۔

Courtesy:Fb/Azan Khan

اس تصویر کو متعدد ٹویٹر صارفین نے بھی پشاور کی مسجد میں ہوئے دھماکے کے بعد کا بتاکر شیئر کیا ہے۔ پاکستانی صحافیہ ملیحہ ہاشمی نے بھی اپنے آفیشل ہینڈل سے تصویر شیئر کی ہے۔ جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “یا اللّه۔ آج پشاور مسجد میں دھماکہ کر کے قرآن پاک کے مقدس صفحات کو خون آلود کرنے والے کبھی سکھ نہ پائیں۔ آمین !!”۔

پشاور پولس لائنز کی مسجد میں ہوئے دھماکے کی نہیں ہے یہ تصویر
Courtesy: Twitter @MaleehaHashmey

Fact Check/Verification

وائرل تصویر کی سچائی جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران اسکرین پر وائرل تصویر کے ساتھ شائع متعدد میڈیا رپورٹس ملیں۔ جس میں مسجد کی اس تصویر کو افغانستان کا بتایا گیا ہے۔

تصویر کے ساتھ ہم نے جب کیورڈ سرچ کیا تو نیوز اسکائی، دی گارجین اور بی بی سی نیوز ویب سائٹس پر شائع 8 اکتوبر 2021 کی رپورٹس ملیں۔ جس میں مسجد کی اس تصویر کو افغانستان کے قندوز کے سیدآباد جامع مسجد کا بتایا گیا ہے۔ جہاں 46 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 143 زخمی ہوئے تھے۔ یہ مسجد شیعوں کی تھی، جس میں خودکش حملہ ہوا تھا۔

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ یہ تصویر پشاور پولس لائنز کی مسجد میں ہوئے دھماکے کی نہیں ہے، بلکہ افغانستان کے قندوز کے سیدآباد جامع مسجد کی ہے۔

Result: False

Our Sources

Reports published by News Sky, BBC and The Guardian on 8 Oct 2021


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ 9999499044

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular