منگل, جون 25, 2024
منگل, جون 25, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا کینیڈا میں آر ایس ایس پر لگی پابندی؟ پوری...

Fact Check: کیا کینیڈا میں آر ایس ایس پر لگی پابندی؟ پوری حقیقت یہاں جانیں

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
جسٹن ٹروڈو حکومت نے کینیڈا میں آر ایس ایس پر پابندی عائد کر دی ہے۔
Fact
نہیں، وائرل دعویٰ فرضی ہے۔ کینیڈا کی حکومت نے ابھی تک ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

ہندوستان-کینیڈا کے حالیہ سفارتی کشیدگی کے درمیان ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ہونے والے دعوے میں کہا جا رہا ہے کہ “کینیڈا کی حکومت نے ہندوتوا تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی لگا دی ہے اور کینیڈا نے انڈیا کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات بھی ختم کر لیا ہے”۔ یہ دعویٰ ایک ویڈیو کے ساتھ وائرل ہوا ہے جس میں ایک شخص کینیڈا میں آر ایس ایس پر پابندی سمیت تین مطالبات کر رہا ہے۔

ایک ویریفائڈ ایکس ہینڈل نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “کینیڈا نے انڈیا کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کر لئے اور آر ایس ایس کو بھی بین کرنے کا فیصلہ کیا ہے”۔

کینیڈا میں آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کا دعویٰ فرضی ہے۔

مذکورہ دعوے کے ساتھ اس ویڈیو کو فیس بک صارف بھی شیئر کر رہے ہیں۔

Courtesy:

Fact Check/Verification

وائرل ویڈیو کے ساتھ کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے گوگل پر “کینیڈا نے انڈیا کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کر لیا” کیوڑد سرچ کیا۔ جہاں ہمیں پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی ویب سائٹ پر 2 ستمبر کی ایک رپورٹ ملی۔ پی ٹی آئی کے مطابق کینیڈا نے بھارت کے ساتھ تجارتی مشن عارضی طور پر ملتوی کردیا ہے۔ اس کے علاوہ سفارتی تعلقات میں تلخی کے حوالے سے سرکاری بیان یہاں اور یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

پھر ہم نے گوگل پر سرچ کیا کہ “کیا واقعی کینیڈا میں آر ایس ایس پر پابندی عائد کردی گئی ہے؟” لیکن ہمیں ایسی کوئی پختہ رپورٹ نہیں ملی، جس میں پابندی کی بات کہی گئی ہو۔

تحقیقات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ہم نے وائرل ویڈیو کو غور سے سنا تو ویڈیو میں موجود شخص 4 اہم مطالبات کر رہا ہے، جن میں سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ کینیڈا کے سفیر کو فوری طور پر بھارت سے واپس بلایا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ہندوستانی سفیر ہائی کمشنر سنجے کمار ورما کو کینیڈا سے نکالنے کا عمل جلد شروع کیا جائے۔ تیسرا مطالبہ بھارت اور کینیڈا کے درمیان باضابطہ طورپر تجارت پر پابندی لگانے اور چوتھا ورلڈ سکھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایس او) کے ساتھ مل کر آر ایس ایس پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے اور اس کے کارکنوں کو کینیڈا سے باہر نکالنے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو ہوئے سکھوں کے مظاہرے میں شامل؟

مزید سرچ کے دوران ہمیں الجزیرہ کی ایک رپورٹ ملی۔ جس کے مطابق ہاؤس آف کامنز میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ اور مسلم رہنماؤں نے مبینہ طور پر حکومت سے کینیڈا میں ان کے خلاف ممکنہ خطرات کو روکنے کے لئے چند مطالبات کئے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی رائل سکھ آرگنائزیشن اور نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز (این سی سی ایم) نے ہردیپ سنگھ نجر کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ ہمیں پتہ چلا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز (این سی سی ایم) کے سی ای او اسٹیفن براؤن ہیں۔ البتہ حکومت کی جانب سے پورے طور پر کینیڈا میں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا ذکر نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ہمیں وائرل ویڈیو نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز کے آفیشل یوٹیوب چینل ‘این سی سی ایم ٹی وی’ پر بھی ملا۔ جسے آپ یہاں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

Courtesy: YouTube/ NCCMtv

ہم نے آر ایس ایس کی غیر ملکی شاخ ہندو سویم سیوک سنگھ (ایچ ایس ایس) کے کینیڈین کارکنوں سے رابطہ کیا۔ ان کا جواب موصول ہونے پر آرٹیکل کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

Conclusion

ہماری تحقیقات میں ملنے والے شواہد سے یہ واضح ہوا کہ کینیڈا میں آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا وائرل دعویٰ فرضی ہے۔ کینیڈا کی ٹروڈو حکومت کی جانب سے ابھی تک ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔ وائرل دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو میں مقامی تنظیم این سی سی ایم کے سی ای او اسٹیفن براؤن نے محض آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Result: False

Sources
Report published by PTI on
Media report published by Aljazeera on September 19, 2023
Youtube Video of NCCM


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular