ہفتہ, جون 22, 2024
ہفتہ, جون 22, 2024

ہومFact CheckViralFact Check: چین میں نہیں ہوئی کیڑوں کی بارش

Fact Check: چین میں نہیں ہوئی کیڑوں کی بارش

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
چین میں کیڑوں کی ہوئی بارش، ویڈیو میں کاروں پر نظر آرہے کیڑے اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

Fact
چین میں گاڑیوں پر کیڑوں جیسی نظر آ رہی شئے پاپلر درخت کے پھول ہیں۔

گزشتہ چند روز سے سوشل نٹورکنگ سائٹس اور نیوز ویب سائٹس پر اردو اور انگلش میں چین میں ہوئی کیڑوں کی بارش سے متعلق ایک خبر خوب گردش کر رہی ہے۔ جسے ثابت کرنے کے لئے ایک ویڈیو بھی شیئر کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو میں سڑک پر کئی کاریں لائن سے کھڑی ہیں اور اس پر کیڑے جیسی کچھ شئے نظر آرہی ہے۔ اسی کے پیش نظر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین میں کیڑوں کی بارش کے باعث لوگ گھروں سے چھتریاں لےکر باہر نکل رہے ہیں۔

یہ ویڈیو چین میں کیڑوں کی ہوئی بارش کی نہیں ہے۔
Courtesy: Facebook/zulfiqarali.solangi.71

مذکورہ وائرل ویڈیو کو چین میں کیڑوں کی ہوئی بارش کا بتاکر روز نامہ سیاست، روزنامہ آگ اور اردو لیکس نے بھی خبریں شائع کی ہیں، وہیں اس حوالے سے پاکستان کی ہم ٹی وی، نوائے وقت اور ایکسپریس نیوز نے بھی چین میں کیڑوں کی بارش کا بتاکر خبریں شائع کی ہیں۔ آرکائیو لنک یہاں، یہاں،یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں اور یہاں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Fact Check/ Verification

چین میں کیڑوں کی ہوئی بارش کے حوالے سے ہم نے انگلش کیپشن کے ساتھ وائرل ہو رہے ایک پوسٹ کے کمنٹ کو اسکین کیا۔ جہاں ہمیں “چین کے صحافی شین شی وے ای” کا جوابی کمنٹ ملا۔ جس میں انہوں نے ویڈیو کے ساتھ کئے گئے دعوے کو فرضی بتایا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا ہے کہ “میں بیجنگ میں ہوں اور یہ ویڈیو جعلی ہے۔ بیجنگ میں ان دنوں بارش نہیں ہوئی”۔

Screengrab from Twitter

ایک دوسرے ٹویٹر ہینڈل نے بھی “چین میں کیڑوں کی بارش” سے متعلق انسائیڈر پیپر کی پوسٹ کو فیک نیوز قرار دیا ہے۔ کمنٹ میں لکھا ہے”یہ کیٹرپلر نہیں ہیں بلکہ موسم بہار میں پابلر کے درختوں سے گرنے والے پھولوں کے گچھے ہیں۔ جب پاپلر کے پھول گرنے لگتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ کھلنے والے ہیں”۔

اس ٹویٹ میں کئی تصاویر بھی تھیں، جس میں زمین پر بکھرے ہوئے پاپلر کے درختوں اور کار کے بونٹ کو قریب سے دکھایا گیا ہے۔

Images tweeted by @Vxujianing

ٹویٹر صارف ‘یوزی ہینوک سانا‘ نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ “یہ پاپلر کے درخت کے بیج ہیں، اگر صحیح کہا جائے تو دور سے کیڑوں کی طرح لگتے ہیں”۔

اس کے علاوہ 8 مئی 2019 کو سی جی ٹی این کی ایک رپورٹ میں بلیک پاپلر کے کیٹکنس (پھول) کو دکھایا گیا ہے، جو بالکل وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے کیڑوں کی طرح دکھتے ہیں۔

Courtesy:CGTN website

پاپلرس دو صنفی پودے ہیں یعنی نر اور مادا پھول الگ الگ درختوں پر لگتے ہیں۔ ہوا کے جرگن میں مدد کرنے کے لئے نئی پتیاں نکلنے سے پہلے لٹکتے ہوئے کیٹکنس (لٹکتے ہوئے ایک جنسی پھولوں کے جھرمٹ) میں پھول کھلتے ہیں۔


پاپلر درخت کے پھولوں کی دیگر تصاویر یہاں، یہاں اور یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین کے مصنوعی سورج کے نام پر وائرل ویڈیو راکٹ لانچنگ کا ہے

Conclusion

اس طرح ہماری تحقیقات میں واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ کہ چین میں کیڑوں کی بارش ہوئی ہے، فرضی ہے۔ اس ویڈیو میں دراصل پاپلر درخت کے کیٹکنس یا پھول گاڑیوں اور سڑکوں پر بکھرے ہوئے نظر آ رہے ہیں نہ کہ کیڑے۔

Result: False

Our Sources

Tweet By Shen Shiwei, Dated March 10, 2023
Tweet By @Vxujianing, Dated March 11, 2023
Tweet By @yuzhinoksana, Dated March 12, 2023
Tweet By @journoturk, Dated March 11, 2023
Report by CGTN, dated May 8, 2019


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular