منگل, جون 25, 2024
منگل, جون 25, 2024

ہومFact CheckFact Check: منہدم ہو رہی عمارتوں کی یہ ویڈیو تائیوان زلزلے کی...

Fact Check: منہدم ہو رہی عمارتوں کی یہ ویڈیو تائیوان زلزلے کی نہیں بلکہ ترکیہ کی ہے

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان میں بدھ کی صبح شدید زلزلے کے باعث کئی مکانات منہدم ہو گئے۔ زلزلے میں منہدم ہونے والے عمارتوں کی متعدد ویڈیوز سوشل نٹورکنگ سائٹس پر خوب شیئر کی جا رہی ہیں۔ اسی کے پیش نظر منہدم ہو رہی عمارت کی ایک اور ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے، جس کے ساتھ صارف کا دعوی ٰہے یہ ویڈیو 3 اپریل کو تائیوان میں آنے والے زلزلے میں منہدم ہوئی ایک عمارت کی ہے۔

یہ ویڈیو تائیوان زلزلے کی نہیں بلکہ ترکیہ کی ہے
Courtesy: Facebook/ endian30

Fact

وائرل ویڈیو کے ایک فریم کو ہم نے ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں جرنو ترک نامی ایکس ہینڈل پر ہوبہو ویڈیو ملی۔ جس میں اس ویڈیو کو ترکیہ کے شانلی‌اورفہ کا بتایا گیا ہے۔

Courtesy: X @ JournoTurk

مزید تحقیقات کے لئے ہم نے تائیوان زلزلے کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کے ایک فریم کو گوگل لینس پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں متعدد میڈیا رپورٹس فراہم ہوئیں، جس میں مذکورہ ویڈیو کو ترکیہ کا بتاکر شائع کیا گیا ہے۔

Screenshot of Google lence

نیو یارک پوسٹ اور ترکی نیوز ویب سائٹ ہیبر سول پر بھی ہمیں 6 فروری 2023 کو شائع خبریں موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس کے مطابق منہدم ہورہی عمارت کی یہ ویڈیو ترکیہ کے شانلی‌اورفہ کی ہے۔ جہاں شدید زلزلے کی وجہ سے پانچ منزلہ عمارت منہدم ہوگئی تھی۔

Courtesy: New York Post

اس طرح ہماری تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو تائیوان زلزلے کی نہیں ہے بلکہ ترکی میں گزشتہ برس فروری میں آنے والے زلزلے میں منہدم عمارت کی ہے۔

Result: False

Sources
Tweet post by Journo Turk on 06 Feb 2023
Reports published by New York Post and Haber Sol on 06 Feb 2023


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular