ہفتہ, دسمبر 10, 2022
ہفتہ, دسمبر 10, 2022

HomeFact Checkبچوں کی لاش کی یہ تصویر تمل ناڈو کی نہیں بلکہ شام...

بچوں کی لاش کی یہ تصویر تمل ناڈو کی نہیں بلکہ شام کی ہے

Claim

سوشل نٹورکنگ سائٹس واہٹس ایپ پر وائس اوور کے ساتھ 42 سکینڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی جارہی ہے۔ جس میں ایک تصویر لگی ہے۔ اس ویڈیو کے وائس اوور میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ تمل ناڈو پولس کو ایک کنٹینر سے بچوں کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ بچوں کے جسم کے اندر کا حصہ(کڈنی اور لیور) نہیں ہے۔ ان بچوں کو الگ الگ ممالک سے اغوا کیا گیا ہے۔

تمل ناڈو میں کنٹینر سے ملے بچوں کی لاش کی یہ تصویر شام کی ہے
Whatsapp forward

Fact

تمل ناڈو میں کنٹینر سے ملے بچوں کی لاش کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے نیوز چیکر نے اویسم اسکرین شارٹ کی مدد سے کیفریم ریورس سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں زمان الوصل نامی شام کی نیوز ویب سائٹ پر 2013 کی شائع شدہ رپورٹ میں ہوبہو وائرل تصویر ملی۔ اس رپورٹ میں شام کے مغربی اور مشرقی غوطہ میں کیمیکل حملے کے دوران 1300 افراد کے مارے جانے کی خبر ہے، جن میں 871 بچے بھی شامل تھے، تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہوا کہ در حقیقت یہ تصویر کہاں کی ہے۔

Courtesy:zamanalwsl

پھر ہم نے کچھ عربی میں یوٹیوب پر کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں دبئی سے شائع ہونے والی اورینٹ ٹی وی نامی ویری فائیڈ یوٹیوب چینل پر 21 اگست 2018 کو اپلوڈ شدہ ویڈیو ملی۔ جس میں بچوں کی وائرل تصویر نظر آرہی ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات سے پتا چلا کہ یہ ویڈیو شام کے مشرقی غوطہ میں کیمیکل حملے کے دوران مارے گئے بچوں کی ہے۔

اس کے علاوہ ہمیں شام کے مشرقی غوطہ میں کیمیکل حملے میں مارے گئے بچے اور جوان سے متعلق دوحہ سے شائع ہونے والی نیوز ویب سائٹ الجزیرہ پر بھی وائرل تصویر سے ملتی جلتی تصویر کے ساتھ شائع اگست 2013 کی رپورٹ ملی۔ اس میں بھی تصویر کو شام کے غوطہ کا ہی بتایا گیا ہے۔

اس طرح ہماری تحقیقات میں ثابت ہوا کہ تمل ناڈو میں کنٹینر سے ملے بچوں کی لاش کا بتاکر شیئر کی گئی تصویر اصل میں شام کے مشرقی غوطہ کی ہے اور یہ بچے کیمیکل حملے کے دوران مارے گئے ہیں۔

Result: Missing Context

Our Sources

Media report published by en.zamanalwsl.ne on 2013
YouTube video published by Orient TV on 21 Aug 2018
Media report published by Aljazeera.net on 21 Aug 2013

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular