جمعہ, جون 14, 2024
جمعہ, جون 14, 2024

ہومFact CheckFact Check: بہن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے بچے کی المناک تصویر...

Fact Check: بہن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے بچے کی المناک تصویر کا غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
غزہ میں تازہ اسرئیلی حملے میں مارے جانے کے بعد بہن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے بچے کی تصویر۔
Fact
تصویر پرانی اور یمن کی ہے، تازہ اسرائیل-غزہ حملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

فیس بک، ایکس اور واٹس ایپ پر بہن کی لاش کو گھسیٹ رہے بچے کی ایک تصویر خوب شیئر کی جا رہی ہے۔ جس کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملے میں ماری گئی بہن کی لاش کو بھائی گھسیٹ کر گھر لے جا رہا ہے۔

بہن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے بچے کی المناک تصویر کا تعلق غزہ سے نہیں ہے۔
Courtesy: Facebook/bashir.hussain.83
Screenshot of Whatsapp forward

فلسطین اور اسرائیل کے مابین چل رہی لڑائی کو ایک ماہ سے زاِئد گذر چکا ہے۔ رواں ماہ کی 15 تاریخ کو شائع ہونے والی ایسوسی ایٹ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں مہلوکین کی تعداد 11000 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 2700 لوگ لاپتہ ہیں۔ وہیں اسرائیل کی جانب سے الشفا اسپتال پر حملے کے بعد سیکڑوں مریضوں کی بھی اموات ہو چکی ہے، بتادوں کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔

اب اسی واقعے سے منسوب کرکے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں ایک بچہ سڑک پر پڑی بچی کو گھسیٹتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دعویٰ کیا جار ہا ہے کہ یہ تصویر غزہ میں اسرائیلی حملے میں ماری گئی بہن کی لاش کو بھائی گھسیٹ کر گھر لے جا رہا ہے۔

Courtesy: X @Hameeddawar1

Fact Check/Verification

بہن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے بچے والی وائرل تصویر کو ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 20 اگست 2020 کو شیئر شدہ اے جے+ عربی نامی فیس بک پیج پر ہوبہو تصویر کے ساتھ شائع ویڈیو رپورٹ ملی۔ جس میں وائرل تصویر میں نظر آنے والے بچے کا تعلق تعز سے بتایا گیا ہے۔ اس بچے کو ‘طفل الما’ کا لقب دیا گیا تھا۔

Courtesy: Facebook/ ajplusarabi

پھ ہم نے “تعز، طفل الما” عربی کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 18 اور 19 اگست 2020 کو ہوبہو تصویر کے ساتھ شائع مڈل ایسٹ مونیٹر، العربیہ، انڈیپنڈنٹ عربی اور عدن الغد نامی ویب سائٹس پر خبریں موصول ہوئیں۔ ان رپورٹس کے مطابق وائرل ہونے والی تصویر کا تعلق یمن کے شہر تعز سے ہے۔ جہاں پانی لینے نکلی بچی کو حوثی اسنائپر نے سر میں گولی مارکر زخمی کردیا تھا۔ جس کے بعد اس کا بھائی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ بچی کا نام رویدہ صالح بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ رویدہ صالح کو سرجری کے بعد اسپتال میں نگرانی میں رکھا گیا تھا۔

Courtesy: Independentarabia

یہ بھی پڑھیں: کیا وائرل تصویر میں نظر آ رہے سبھی افراد اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں؟

Conclusion

لہٰذا نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ بہن کی لاش کو گھسیٹتے ہوئے بچے کی یہ تصویر تقریباً 3 سال پرانی اور یمن کے تعز شہر میں پانی لینے گئی رویدہ صالح نامی بچی کو حوثی اسنائپر کی جانب سے گولی مارکر زخمی کئے جانے کی ہے۔

Result: False

Sources
Facebook post by AJ العربی on 20 Aug 2020
Reports published by Al Arabiya, Independent Arabic, Aden gad and Middle east monitor on 18, 19 Aug 2020


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular