پیر, جولائی 22, 2024
پیر, جولائی 22, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں کو فوجیوں...

Fact Check: کیا ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں کو فوجیوں نے ماری گولی؟

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں کو فوجیوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
Fact
یہ ویڈیو اپریل 2013 میں شامی فوج کی جانب سے عام شہریوں کے قتل عام کی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق فروری 2023 میں ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے کہ وجہ سے بھاری مقدار میں جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔ اس حادثے میں متعدد مکانات مہندم ہو گئے تھے۔ اب اسی واقعے سے منسوب کرکے ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں فوجی لوگوں کو ایک گڑھے میں دھکا دیتا ہے اور دوسرا فوجی اسے گولی سے ہلاک کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ویڈیو میں نظر آرہے فوجی ترکی کے ہیں، جنہوں نے ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں کو ایک ایک کرکے گولی مار کر ہلاک کر دیا، کیونکہ ان ٹھیکیداروں کے صحیح سے کام نہ کرنے کی وجہ سے زلزلے کے دوران متعدد شہریوں کی موت ہوگئی تھی۔

یہ ویڈیو ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں کو ہلاک کرنے کی نہیں ہے۔

ویڈیو کے ساتھ ایک فیس بک صارف نے کیپشن میں لکھا ہے کہ “کے بی سی اے/کے ڈی اے ٹھیکیداروں اور انجینئرز اور دیگر مجرموں کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے:ترکی میں اسلامک جسٹس اس کلپ میں عمارت کے سابق ٹھیکیداروں اور میونسپلٹی کے نگران اہلکاروں کو ترکی فوجیوں کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کوئیک ٹرائل کورٹس نے انہیں مجرم قرار دیا اور انہیں سزا سنائی۔ گولی مار کر موت! کسی اپیل کی اجازت نہیں تھی۔ وہ زلزلے کے دوران منہدم ہونے والی عمارتوں کے ناقص تعمیراتی کام کی منظوری دینے/کرنے کے قصوروار تھے۔ ان ٹھیکیداروں نے ان بلیو پرنٹس پر عمل نہیں کیا ،جس کے لئے زلزلے کے جھٹکے جذب کرنے کے لیے فاؤنڈیشن کے تحت ‘Seismic Dampers’ کی ضرورت تھی۔ اس کے بجائے انہوں نے کار کے ٹائروں کو عمارتوں کی بنیادوں کے نیچے دفن کر دیا، یہ سوچ کر کہ یہ ٹائر زلزلوں کو برداشت کرنے میں مدد کریں گے۔ نتیجتاً 7.8 شدت کے زلزلے کے دوران بہت سی اونچی عمارتیں منہدم ہوئیں جس میں ترکی میں 55000 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے”۔

Fact check / Verification

ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں سے منسوب کرکے شیئر کی گئی ویڈیو کے ایک فریم کو ہم نے گوگل ین ڈیکس سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ترکی نیوز ایجنسی انادولو کے آفیشل یوٹیوب چینل پر 28 اپریل 2022 کو اپلوڈ شدہ ہوبہو ویڈیو ملی۔ جس میں اس خوفناک ویڈیو کو ملک شام کا بتایا گیا ہے۔

Courtesy: YouTube/ Anadolu Agency

مزید سرچ کے دوران ہمیں 27 اپریل 2022 کو شائع شدہ دی گارجین اور نیو لائنس میگزین پر وائرل ویڈیو سے متعلق رپورٹس ملیں۔ ان رپورٹس کے مطابق وائرل ویڈیو اپریل 2013 میں شام کے دمشق کے جنوبی مضافات میں ہوئے قتل عام کی ہے۔ جہاں شام کی ملٹری انٹیلیجنس سروس کی شاخ 227 نے شہریوں کے ایک گروپ کو قیدی بنا یا، پھر ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک ساتھ انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تقریباً 41 افراد کو قتل کرنے کے بعد انہیں اجتماعی قبر میں ڈال کر آگ کے حوالے بھی کردیا تھا۔

Courtesy: The Guardian

اس حوالے سے دیگر میڈیا رپورٹا یہاں اور یہاں پڑھی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی زلزلے کی ویڈیو کو تاجیکستان میں آئے حالیہ زلزلےکا بتاکر کیا گیا شیئر

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو ترکی میں ناقص عمارتیں بنانے والے ٹھیکیداروں و دیگر ملازموں کو فوجیوں کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کرنے کی نہیں ہے، بلکہ شام کے دمشق میں ہوئے قتل عام کی ہے۔

Result: False

Our Sources
Video published on Youtube channels of Anadolu Agency on 28 Apr 2022
Reports published by The Guardian and New lines Magazine on 27 Apr 2022


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular