جمعہ, جون 14, 2024
جمعہ, جون 14, 2024

ہومFact CheckWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 3 اہم تحقیقات پڑھیں

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 3 اہم تحقیقات پڑھیں

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

اس ہفتے کی 3 وائرل پوسٹ کی تحقیقات محض پانچ منٹ میں یک بعد دیگرے سلائڈ میں پڑھیں۔ جس نے اس ہفتے سوشل میڈیا پر کافی سرخیاں بٹوری ہیں۔

سنبھل کے ویڈیو کو حیدرآباد افطار پارٹی کا بتاکر سوشل میڈیا پر کیا جا رہا شیئر

 یوزر کا دعوی ہے کہ کمبھ پر گیان دینے والے کا جی بھر گیا ہو تو یہ حیدرآباد افطار پارٹی کی بھیڑ بھی دیکھ لیں۔جبکہ سچائی یہ ہے کہ وائرل ویڈیو حیدرآباد افطار پارٹی کی نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویڈیو سنبھل کی ہے۔ جہاں مدرسہ انجمن معاون الاسلام کے مہتمم حضرت مولانا عبدالمؤمن ندوی کے جنازے میں کافی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی

یہاں پڑھیں پوری پڑتال

کیا شمشان میں جلائے جارہے مُردوں کی یہ وائرل تصویر کمبھ میلے کی ہے؟

 یوزر کا دعویٰ ہے کہ کمبھ میلے کے حوالے سے یہ خبر نیوز چینل والے نہیں دکھا رہے ہیں۔ 3 / 3 لاش ایک ساتھ جلائی جا رہی ہیں۔ کمبھ سے جب یہ سب واپس اپنے گھروں شہروں میں آٸیں گے تو اس وقت کیا حال ہوگا ۔حالانکہ کمبھ میں 2 لاکھ عقیدتمند کرونا کے شکار ہوچکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ  ہریدوار کمبھ میلے میں آئے 2100 سے زائد عقیدت مند کرونا کے شکار ہوئے ہیں۔ دولاکھ والا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ جس تصویر کو حال کے کمبھ میلے کا بتایا جارہا ہے وہ در اصل کاشی کے منی کرنیکا شمشان گھاٹ کی ہے اور کم از کم 4 سال پرانی ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں

جموں کشمیر کی مسجد میں ہوئی پولس فائرنگ کے ویڈیو کو پاکستان کا بتا کر شیئرکیا جا رہا ہے

یوزر کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عاشق رسولؐ کے ساتھ وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں۔ یوزر نے مزید لکھا ہے کہ “اس مسجد کا حال دیکھو یہ جموں کشمیر کی مسجد یا فلسطین کی مسجد نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی مسجد ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وائرل ویڈیو پاکستان کی مسجد کا نہیں ہے۔ بلکہ جموں کشمیر کے شوپیاں ضلع کی مسجد کا ہے۔ جہاں ملیٹنٹوں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپ میں مسجد کو نقصان پہنچا تھا۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular