منگل, دسمبر 7, 2021
منگل, دسمبر 7, 2021
HomeFact CheckWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 5 اہم تحقیقات یہاں پڑھیں

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 5 اہم تحقیقات یہاں پڑھیں

اس ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ پر کئے گئے 5 اہم تحقیقاتی رپورٹ مختصراً درج ذیل کے سلائڈ میں پڑھ سکتے ہیں۔ جو اس ہفتے سوشل میڈیا پر صارفین نے کافی شیئر کیا تھا۔

کیا دشہرے کی ریلی پر سکھوں نے چڑھائی گاڑی؟

اس ہفتے ایک ویڈیو خوب شیئر کیا گیا۔ جسکے کیپشن میں صارفین نے لکھا تھا کہ دہلی میں دشہرے کی ریلی پر سکھوں نے گاڑی چڑھادی ہے۔ اسی ویڈیو کے کیپشن میں کچھ لوگوں نے لکھا کہ لکھیم پور واقعےکا بدلہ سکھ لیڈر مرسنگھ نے آرایس ایس کی ریلی کو کچلا ہے۔ تحقیقات کے سے پتا چلا کہ دہلی کا ویڈیو نہیں ہے، بلکہ چھتیس گڑھ کے جشپور کا ہے اور گانجا اسمگلروں نے دشہرے کی ریلی کو کچلا تھا اور دونوں ہی ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔

کیا کشمیر میں مسلم خاتون کی درخت سے لٹکا کر پٹائی کی جار رہی ہے؟

خاتون کے ساتھ زد و کوب کے ایک ویڈیو کو خوب شیئر کی گئی۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ

فیس بک پر 14 سیکینڈ کے ایک ویڈیو کو ‘مزبون الصایف’ نام کے یوزر نے کشمیر سے جوڑ کر شیئر کیا ہے۔ جس میں ایک خاتون کی درخت سے لٹکا کر پٹائی کی جا رہی ہے۔ صارفین نے اس ویڈیو کے ساتھ عربی کیپشن میں لکھا ہے کہ”انقذوا مسلمی کشمیر” ترجمہ(کشمیری مسلمانوں کو بچائیں)۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ  خاتون کی درخت سے لٹکا کر پٹائی کئے جانے والا وائرل ویڈیو کشمیری مسلم خاتون کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے علی راج پور کی ایک 20 سالہ آدیواسی لڑکی کی پٹائی کا ہے۔ لڑکی کو ان کے بھائی اور والد نے سسرال سے بغیر بتائے مامو کے گھر جانے کی وجہ سے مارا پیٹا تھا۔

یہاں پڑھیں پوری پڑتال۔۔۔۔

کیا پی ایم مودی نے خود کو بتایا پٹھان کا بچہ؟ 

کانگریس سوشل میڈیا ہیڈ روہن گپتا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کی ایک ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پی ایم مودی نے خود کو پٹھان کا بچہ کہا۔ روہن نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ پٹھان کا بچہ کشمیر مسئلے پر سچ کیوں نہیں بولتے؟ جبکہ سچائی یہ ہے کہ پی ایم مودی نے خود کو پٹھان کا بچہ نہیں کہا، کانگریس لیڈر روہن گپتا نے ویڈیو کے ایک حصے کو ایڈیٹ کرکے سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔۔۔۔

گائے گؤری پوجا کے ویڈیو کو کشمیری مسلم سے جوڑ کر کیا جا رہا ہے شیئر

گائے سے انسانوں کے کچلے جانے والے ویڈیو کو ہندوستان کے کشمیری مسلم کا بتاکر شیئر کیا گیا۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ وائرل ویڈیو کا تعلق کشمیری مسلم سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویڈیو اجین میں منعقد گائے گؤری پوجا کی ہے اور یہ ویڈیو کم از کم 3 سال پرانی ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔۔۔

کیا وائرل ویڈیو میں جلتے ہوئے گھر بنگلہ دیش کے رنگ پور کا ہے؟ 

ایک ویڈیو کو اس ہفتے بنگلہ دیش کے رنگ پور میں ہوئے حالات کشیدہ کا بتا کر خوب شیئر کیا گیا ہے، مسلمانوں کے ہجوم نے ہندؤں کے گھروں اور مندروں کو آگ کے حوالے کردیا ہے۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ ویڈیوبنگلہ دیش کے رنگ پور کا نہیں ہے، بلکہ بھارت کے تریپورہ کا ہے۔جسے اب غلط دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular