جمعہ, ستمبر 24, 2021
جمعہ, ستمبر 24, 2021
HomeUrduWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 3 اہم تحقیقات پڑھیں

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 3 اہم تحقیقات پڑھیں

ہفتہ واری خبر میں آج ہم 3 ایسے وائرل دعوے کی حقائق کو سامنے رکھیں گے ۔جو اس ہفتے سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا تھا۔ درج ذیل میں یک بعد دیگرے اسٹوری ملاحظہ فرمائیں۔

جاپان سونامی کے ویڈیو کو بیجنگ ایئرپورٹ کا بتاکر کیا گیا شیئر

اس ہفتے سوشل میڈیا پر منٹ 21 سیکینڈ کے ایک ویڈیو کو چین کے بیجنگ ایئرپورٹ میں آئے سیلاب کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس میں متعدد کار اور ہیلی کاپٹر پانی میں بہتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ وائرل ویڈیو چین کے بیجنگ ایئرپورٹ کا نہیں ہے، بلکہ جاپان کے سنڈئی ایئر پورٹ کا ہے۔ جہاں 2011 میں آئے سونامی کی وجہ سے طیارے اور گاڑیاں ایئرپورٹ سے بہہ گئے تھے

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔۔۔

کیا وائرل تصویر میں نظر آرہا بُدّھا کا مجسمہ خالص سونے سے بنا ہے؟

فیس بک اور ٹویٹر پر تھائی لینڈ میں موجود بدھا کا یہ مجسہ خالص سونے سے بنا ہوا ہے۔ اس مجسمے کی حفاظت کوئی گارڈ نہیں کرتا بلکہ یہ خود اپنی حفاظت کرتا ہے۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ وائرل تصویر میں نظر آرہا بُدّھا کا مجسمہ خالص سونے سے نہیں بنا ہے، بلکہ اسے نیپون پینٹ کے سنہرے رنگ کے استعمال سے رنگا گیا ہے۔ یہ مجسمہ جہاں موجود ہے اسے واٹ سکومارم ٹیمپل کہا جاتا ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔۔۔۔

سعودی عرب کی فلم انڈسٹری کے اعداد و شمار کو غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے پیش

سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے مقدس مقامات پر جانے والے کو 10 ہزار ریال کا جرمانہ دینا پڑتا ہے۔ لیکن سینما ہالز فل، فلم فیسٹیول 7 جولائی تک جاری تھا۔ کورونا کے دوران 20 نئے سینما ہال کھل گئے۔ میٹا سینما کے مطابق 40 ہفتوں میں 73 ملین ڈالر کے سینما ٹکٹس فروخت ہونے کا ریکارڈ قائم ہوا۔2020 میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی۔ لیکن سرزمینِ وحی میں اسے عروج حاصل رہا۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ  سعودی فلم انڈسٹری کے حوالے سے وائرل ڈیٹا گمراہ کن ہے۔ سعودی عرب میں اس سال 43 ہفتے میں 73 ملین ڈالر کے ٹکٹس فروخت نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular