منگل, مئی 21, 2024
منگل, مئی 21, 2024

ہومFact CheckFact Check: گورو بھاٹیہ پر کئے گئے تشدد کی نہیں ہے یہ...

Fact Check: گورو بھاٹیہ پر کئے گئے تشدد کی نہیں ہے یہ ویڈیو

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
یہ ویڈیو بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ کی پٹائی کا ہے۔
Fact
یہ ویڈیو اس جھگڑے کا ہے جو چار سال قبل دہلی کی تیس ہزاری کورٹ میں پولس اور وکلاء کے درمیان پیش آیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وکلاء نے بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ کی پٹائی کی ہے۔ 5 سیکنڈ کے اس ویڈیو کلپ میں وکلاء کے لباس میں ملبوس لوگ کسی کو پیٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے، “بی جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ کی پٹائی کی ویڈیو سامنے آئی ہے”۔

گورو بھاٹیہ کے پٹائی کی نہیں بلکہ چار سال قبل دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں پولس اور وکلاء کے مابین ہوئی جھڑپ کی ہے یہ ویڈیو۔
Courtesy: Facebook/ dromsudhaa

کیا تھا گورو بھاٹیہ کا معاملہ؟

خبروں کے مطابق 20 مارچ 2024 کو بی جے پی کے ترجمان اور وکیل گورو بھاٹیہ گریٹر نوئیڈا کے سورج پور ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک کام کے سلسلے میں پہنچے تھے۔ عدالت میں موجود وکلاء نے ہڑتال کا حوالہ دیتے ہوئے گورو بھاٹیہ کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔ لیکن گورو بھاٹیہ اپنے کیس کی سماعت پر بضد رہے۔ جس کی وجہ سے کافی ہنگامہ ہوا۔ اس واقعہ کے بعد سپریم کورٹ نے گورو بھاٹیہ کے ساتھ بدسلوکی کا نوٹس بھی لیا تھا۔

Fact Check/ Verification

دعوے کی تصدیق کے لئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کلپ کو غور سے دیکھا۔ اس ویڈیو میں دہلی پولس کی دو بسیں دیکھنے کو ملیں، جب کہ گورو بھاٹیہ والا واقعہ نوئیڈا میں پیش آیا تھا۔

اس کے بعد ہم نے ویڈیو کے چند فریمز کو ریورس امیج سرچ کیا۔ نتیجتاً، ہمیں 2019 میں دہلی کی تیس ہزاری کورٹ میں وکلاء اور پولس کے درمیان ہوئے تصادم کے کچھ فیس بک پوسٹ ملے۔ جس میں وائرل کلپس کے ہوبہو مناظر تھے۔ اب ہم نے فیس بک پوسٹس میں موجود ویڈیو اور وائرل کلپ کا موازنہ کیا تو واضح ہوا کہ یہ ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ تقریباً 4 سال پرانی ہے۔

مزید تفتیش کے دوران ہم نے ‘تیس ہزاری کورٹ’ اور ‘پولیس وکیل تصادم’ کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران، ہمیں تیس ہزاری کورٹ میں تشدد پر 2 نومبر 2019 کو نوبھارت ٹائمز کی شائع کردہ ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ اس رپورٹ میں وائرل کلپ سے ملتے جلتے کئی مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔

Courtesy: NBT

5 نومبر 2019 کو این ڈی ٹی وی کی شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق دہلی کی تیس ہزاری کورٹ میں پولیس اور وکلاء کے درمیان پارکنگ کو لے کر 2 نومبر 2019 کو تنازعہ ہوا تھا۔

Courtesy: NDTV

Conclusion

ہم اپنی تحقیقات کے ذریعے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جس ویڈیو کو جے پی کے ترجمان گورو بھاٹیہ کی پٹائی کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے، وہ دراصل اس جھگڑے کی ہے جو چار سال قبل دہلی کی تیس ہزاری کورٹ میں پولس اور وکلاء کے درمیان پیش آیا تھا۔

Result: False

Sources
Various social media posts shared in 2019.
Report published by Navbharat Times on 2nd November 2019.
Report published by NDTV on 5th November 2019.

(اس آرٹیکل کو ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ )


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular