ہفتہ, جون 22, 2024
ہفتہ, جون 22, 2024

ہومFact CheckFact Check: عمران خان کے سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کی نہیں ہے...

Fact Check: عمران خان کے سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کی نہیں ہے یہ تصویر

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
گرفتاری سے بچنے کے لئے عمران خان سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Fact
سیڑھی سے چھت پر چڑھ رہے شخص کی یہ تصویر پرانی ہے اور پاکستانی لیڈر حمزہ شریف کی ہے۔

ان دنوں پاکستان میں سیاسی گھماسان عروج پر ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اسی بیچ ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک شخص لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر چڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان گرفتاری سے ڈر کر سیڑھی کے ذریعے بھاگ رہے ہیں۔

پاکستان کے ناصر بٹ نام کے ایک آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے سیڑھی کے ذریعے چھت پر چڑھ رہے شخص کی تصویر شیئر کیا ہے۔ کیپشن میں لکھا ہے کہ “نیازی سیڑھی کے ذریعے زمان پارک سے بھاگتے ہوئے”۔

عمران خان کے سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کی نہیں ہے یہ تصویر
Courtesy: Twitter @nasirbuttuk

اس تصویر کو پی ٹی آئی رہنما عمران خان کے سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کا بتاکر متعدد فیس بک صارفین بھی شیئر کر رہے ہیں۔

توشہ خانہ کیس معاملے میں 28 فروری کو پاکستان کی عدالت نے عدم پیشی کے باعث عمران خان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ جس کے بعد عمران خان نے وارنٹ گرفتای منسوخی کی پٹیشن مسترد کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اب اسی معاملے سے منسوب کرکے سوشل میڈیا پر عمران خان سے متعلق پوسٹ شیئر کئے جا رہے ہیں۔

Fact Check/Verification

عمران خان کے سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کا بتاکر شیئر کی گئی تصویر کو ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں کئی پرانے پوسٹ ملے۔ جس میں تصویر میں نظر آرہے شخص کو حمزہ شریف بتایا گیا ہے۔

Screenshot of Google search

پھر ہم نے وائرل تصویر کو ین ڈیکس سرچ کیا۔ جہاں ہمیں پاکستانی نیوز ویب سائٹ اردو پوئنٹ پر ہوبہو تصویر کے ساتھ شائع 7 اپریل 2019 کی ایک رپورٹ ملی۔ رپورٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر چڑھ رہا فرد اس وقت کے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شریف ہیں۔ حمزہ شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں نیب ٹیم گرفتار کرنے آئی تھی، ان کے جانے کے بعد حمزہ شریف اپنے کارکنان سے بات کرنے کے لئے سیڑھی کے ذریعے چھت پر چڑھ رہے تھے۔

Courtesy: Urdu point

اس کے علاوہ دیگر نیوز ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل نے بھی تصویر میں نظر آرہے شخص کو حمزہ شہباز شریف کا بتایا ہے۔

حمزہ شہباز کی گرفتاری سے متعلق کیا تھا پورا معاملہ؟

چھ اپریل 2019 کو شائع ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور کے ماڈل ٹاؤن علاقے میں موجود مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے گھر پر نیب ٹیم نے چھاپا مارا تھا۔ جہاں نیب ٹیم حمزہ شریف کو مبینہ منی لانڈرنگ کیس معاملے میں گرفتار کرنا تھا۔ حمزہ شریف کے خلاف نیب ٹیم کے پاس گرفتاری کا وارنٹ بھی موجود تھا۔

البتہ این ڈی ٹی وی نے پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ پولس جب عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچی تو وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے دیوار پھلانگ کر پڑوسی کے گھر فرار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کی فرضی خبر وائرل

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ وائرل تصویر پرانی ہے اور پاکستانی لیڈر حمزہ شریف کی ہے نا کہ عمران خان کے سیڑھی کے ذریعے بھاگنے کی ہے۔

Result: False

Our Sources

Tweet by @saniya__hassan on 24 May 2022
Reports published by Urdu point aaj.TV on 7 April 2019
Image published by Real Info Tv YouTube channel on 7 Apr 2019


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔9999499044

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular