پیر, فروری 26, 2024
پیر, فروری 26, 2024

ہومFact CheckFact Check: تبلیغی جماعت کے گروپوں میں جھڑپ کی پرانی ویڈیو وائرل

Fact Check: تبلیغی جماعت کے گروپوں میں جھڑپ کی پرانی ویڈیو وائرل

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

سوشل میڈیا پر بھگدڑ کی ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے، جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کی قیادت کو لےکر تبلیغی جماعت کے دو گروپوں میں جھڑپ ہو گئی۔ اس ویڈیو کو لوگ حالیہ دنوں کا سمجھ کر اس پر رائےزنی کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں تبلیغی جماعت کے گروپوں میں ہوئی جھڑپ کی پرانی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔
Courtesy: Facebook/ TajRazaMisbahiOfficial

Fact

تبلیغی جماعت کے گروپوں میں جھڑپ کا بتا کر شیئر کی گئی ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس ویڈیو کو کیفریم میں تقسیم کیا اور اسے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں بنگلہ دیش کرکٹ 24 نامی یوٹیوب چینل پر یہ ویڈیو ملی، جسے 1 دسمبر 2023 کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو کا کیپشن بنگلہ زبان میں تھا، جس کا ترجمہ ہے “تبلیغی جماعت کے دو گروپوں نے دارالحکومت کے اترا ہوائی اڈے کے علاقے میں سڑک کے دونوں طرف موقف اختیار کر لیا ہے”۔

Courtesy: YouTube/ Bangladesh Cricat24

یہاں سے سراغ لے کر ہم نے کچھ انگلش کیورڈ سرچ کیا، جہاں ہمیں دی ڈیلی اسٹار اور بی ڈی نیوز 24 پر بھی اس حوالے سے 10 جنوری 2018 کو شائع رپورٹ موصول ہوئیں۔ جس کے مطابق بھارت کے مولانا سعد کاندھدہلوی کی آمد پر حضرت شاہ جہاں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نزدیکی علاقوں میں احتجاجیوں نے سڑکیں جام کر دی تھیں۔ مولانا سعد بسوا اجتماع میں شرکت کے لئے بنگلہ دیش پنہچے تھے۔ جس پر تبلیغی جماعت کے لوگ 2 گروپ میں تقسیم ہو گئے تھے، کچھ مولانا سعد کی حمایت میں تھے اور کچھ ان کی مخالفت کر رہے تھے۔

Courtesy: Daily Star

مزید سرچ کے دوران ہمیں ڈھاکہ ٹریبیوں پر بھی 2 دسمبر 2023 کو شائع شدہ ایک رپورٹ ملی۔ جس میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ مولانا سعد کے متنازعہ بیان کی وجہ سے ان کی آمد پر احتجاج کیا گیا تھا۔

Courtesy: Dhaka Trubune

اس طرح ہماری تحقیقات سے واضح ہوا کہ اس ویڈیو کے ساتھ کیا جانے والا دعویٰ درست ہے، لیکن یہ ویڈیو پانچ سال پرانی ہے اور حالیہ دنوں میں ایسا کوئی واقعہ بنگلہ دیش میں پیش نہیں آیا ہے۔

Result: Missing Context

Sources
Video Uploaded by YouTube Channel Bangladesh Cricat24 on 1 Dec 2018
Reports published by Dhaka Trubune, BD News and The Daily Star on Jan, Dec 2018


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular