بدھ, جون 19, 2024
بدھ, جون 19, 2024

ہومFact CheckFact Check: گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے طوفان کی نہیں ہے...

Fact Check: گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے طوفان کی نہیں ہے وائرل ویڈیو

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے بپر جوائے طوفان کے مناظر۔
Fact
ایک ویڈیو شمالی اسپین کی ہے اور دوسری مینی کوئی جزیرہ کے اسٹرن جٹّی کی ہے۔ حالیہ گجرات میں آئے طوفان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان دنوں بھارت کے گجرات میں بپر جوائے طوفان قہر برپا کئے ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے الڑٹ بھی جاری کیا۔ اب اسی طوفان سے منسوب کرکے سوشل نٹورکنگ سائٹس فیس بک اور ٹویٹر پر دو ویڈیوز گردش کر رہی ہے۔ پہلی ویڈیو جس میں سمندر کے ساحل پر اونچی لہروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سے متعلق صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے طوفان کے مناظر ہے۔ کچھ صارفین ویڈیو پر جے سومناتھ لکھ کر بھی شیئر کر رہے ہیں۔

Video1

یہ دونوں ویڈیوز حالیہ گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے طوفان کی نہیں ہے۔
Courtesy: Twitter @WeatherWupk

Fact Check/ Verification

گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے بپر جوائے طوفان سے منسوب کرکے شیئر کی گئی پہلی ویڈیو کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ایکسپلور ٹریول ڈسٹینیشن اور کوڈ انفنیٹی نام کے یوٹیوب چینل پر وائرل ویڈیو سے ملتی جلتی ویڈیو ملی۔ یوٹیوب چینل کے مطابق یہ ویڈیو شمالی اسپین میں آئے سمندری طوفان کی ہے۔ اس ویڈیو کو 2021 میں اپلوڈ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہمیں دیگر ویب سائٹس پر وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے مناظر کی تصاویر بھی ملیں۔ جس کے مطابق وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے بیچ کا نام سان سیباسٹین بتایا گیا ہے۔

جیو لوکیشن کی مدد سے وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے مقام تک پہنچنے کی کوشش کی۔ جہاں سین سیباسٹین بیچ کے مناظر کا موازنہ کیا تو معلوم ہوا کہ وائرل ویڈیو گجرات کی نہیں ہے۔

Video2

یہ دونوں ویڈیوز حالیہ گجرات کے ساحلی علاقوں میں آئے طوفان کی نہیں ہے۔
Courtesy: Twitter @TheNewsAlertPK

دوسری ویڈیو جس میں پُل پر سمندری لہروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ دعویٰ ہے کہ یہ سمندری طوفان بپرجوائے کے بھارتی ریاست گجرات سے ٹکرانے کا منظر ہے۔

Fact Check/Verification

وائرل ویڈیو کے کیفریم کو ریورس امیج سرچ کرنے پر ہمیں دویپ ڈائری لکشدویپ نامی یوٹیوب چینل پر 26 اگست 2017 کو اپلوڈ شدہ ویڈیو ملی۔ جس میں اسے 23 اگست 2017 کو مینی کوئی آئی لینڈ ایسٹرن جیٹی پر حملہ کرنے والی لہروں کا بتایا گیا ہے۔ ایسی ہی ایک ویڈیو یہاں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

مذکورہ اسکرین سارٹ کے موازنے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ دونوں ویڈیوز ایک ہی مواقع کی ہے۔

مزید تحقیق میں ہم نے پایا کہ مینی کوئی لکشدیپ کا سب سے جنوبی جزیرہ ہے۔ گوگل میپس پرایسٹرن جیٹی، مینی کائی جزیرے کی صارفین کی جانب سے منسلک کچھ تصاویر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ واِئرل ویڈیو میں نظر آ رہا مقام یہی ہے۔ ہم نے یہ بھی پایا کہ اس ویڈیو کو پہلے بھی مختلف فرضی دعووں کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہے۔

Conclusion

اس طرح نیوزچیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ 2 الگ الگ ویڈیوز کو گجرات کے ساحلی علاقوں پر آئے طوفان کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے، جبکہ ان میں سے ایک ویڈیو سین سیباسٹن جزیرہ کی ہے بلکہ دوسری 2015 میں مینی کوئی جزیرے پر آئے طوفان کی ہے۔

Result: False

Our Source
YouTube Video Of Code Infinity, 7 Jan 2021
YouTube Video Of RISING ROCKS, 10 Jan 2021
Google MAP
Youtube video, Dweepdiary Lakshadweep, August 26, 2017
Google Maps image

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular