اتوار, مئی 22, 2022
اتوار, مئی 22, 2022

HomeFact CheckWeekly Wrap:پانچ اہم تحقیقات محض 5 منٹ میں پڑھیں 

Weekly Wrap:پانچ اہم تحقیقات محض 5 منٹ میں پڑھیں 

اس ہفتے کرناٹک حجان تنازعہ اور روس-یوکرین کے درمیان جنگ سے متعلق کافی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ جن میں سے آپ پانچ اہم تحقیقات پر مشتمل رپورٹ محض 5 منٹ میں درج ذیل کے سلائیڈ میں پڑھیں۔ جنہیں اس ہفتے سوشل میڈیا پر صارفین نے خوب شیئر کیا ہے۔

پان اہم تحقیقات پر مشتمل رپورٹ

روس کی جانب سے یوکرین پر ہوئے حملے کا نہیں ہے یہ ویڈیو

اس ہفتے فیس بک پر روس کی جانب سے یوکرین پر ہوئے حملے کا بتاکر ایک دھماکے کی ویڈیو شیئر کی گئی ۔ صارف نے 45 سیکینڈ کے اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔ یوکرین کا دارالحکومت کیف دھماکوں سے گونج اٹھا۔ تیسری عالمی جنگ کا ماحول بننے جا رہا ہے۔ نیٹو اتحادی ممالک اور روس آمنے سامنے آگئے ہیں”۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ دھماکے کی وائرل ویڈیو روس کی جانب سے یوکرین پر ہوئے حملے کی نہیں ہے، بلکہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور چین کے تیانجن میں ہوئے دھماکے کی ہے۔

یہاں پڑھیں پوری پڑتال ۔۔۔۔

یوکرین فوج کی جانب سے روسی ٹینک تباہ کئے جانے کے نام پر پرانی تصویر وائرل

سوشل میڈیا پر ایک ٹینک کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یوکرین فوج کی جانب سے روسی ٹینک تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ صارف نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “یوکرین کی فوج نے روسی ٹینک تباہ کر دیئے”۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ یوکرین فوج کی جانب سے روسی ٹینک کو تباہ کرنے کے نام پر جو تصویر شیئر کی جا رہی ہے، اس کا حالیہ جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تباہ شدہ ٹینک کی تصویر کم از کم 7 سال پرانی ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔۔۔

پیرا ٹروپرس کی 8 سال پرانی ویڈیو کو حالیہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا بتاکر کیا جا رہا شیئر

سوشل میڈیا پر پیرا ٹروپرس سے اتر رہے لوگوں کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی۔ ویڈیو کے کیپشن میں صارف نے لکھا تھا کہ “روسی فوج پیرا شوٹ خارکوف کے قریب یوکرین میں اتر رہے ہیں”۔جبکہ تحقیقات سے واضح ہوا کہ یرا ٹروپرس کو یوکرین میں اترتے ہوئے دیکھے جانے والے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو دراصل کم ازکم 8 سال پرانی ہے اور حالیہ یوکرین پر روس کے حملے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

حجاب پہنی خاتون کی تذلیل کی یہ ویڈیو بھارت کی نہیں ہے

سوشل میڈیا پر اس ہفتے ایک ویڈیو خوب شیئر کی گئی۔ ویڈیو کے ساتھ صارف نے کیپشن میں لکھا تھا کہ”بھارت میں مسلم حجاب پہنے لڑکی کی بے حرمتی اور تذلیل کا سلسلہ تھام نہ سکا جاگ مسلم جاگ ذرا”۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ وائرل ویڈیو کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دراصل حجاب پہنی خاتون کی تذلیل کی یہ ویڈیو مراکش کی ہے، جہاں عاشورہ کے دن نوجوان لڑکوں نے خاتون کی بے حرمتی کی تھی۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔

کرناٹک حجاب معاملے پر جاپان میں ایک پاکستانی نے نہیں پکڑا بھارتی سفیر کا گریباں

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو کرناٹک حجاب معاملے سے جوڑ کر شیئر کیا گیا۔ صارف کا دعویٰ تھا کہ جاپان میں ایک پاکستانی نے مودی کی ظالمانہ پالیسی اور حجاب کے خلاف بنائے جانے والے قانون کی وجہ سے بھارتی سفیر کا گریباں پکڑ لیا۔جبکہ تحقیقات سے یہ واضح ہوا کہ 2018 میں کشمیر ڈے کے موقع پر ہوئے واقعے کی ویڈیو کو حالیہ حجاب معاملے سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو لے کر جاپان میں کسی پاکستانی کے بھارتی سفیر کا گریباں پکڑے جانے کی کوئی خبر فی الحال نہیں ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔۔۔


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular