بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduخاتون کے ساتھ چھیڑخانی کا ویڈیو وائرل!جانیں کیاہےاس وائرل ویڈیو کی حقیقت؟

خاتون کے ساتھ چھیڑخانی کا ویڈیو وائرل!جانیں کیاہےاس وائرل ویڈیو کی حقیقت؟

 

دعویٰ

وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا جارہاہے کہ بی جے پی لیڈر اجے راج پوت گجرات کے ایک اسکول میں خاتون ٹیچر کوبوسہ لے رہےہیں۔

 

 

تحقیقات

فیس بک پر سندیپ رابَڑیانامی اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شیئر کیا گیاہے۔ویڈیو میں ایک شخص آفس میں کھڑی خاتون کو بوسہ لے رہاہے۔پوسٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ گجرات میں اجے راج پوت نامی بی جے پی لیڈر نے اسکول جاکر خاتون ٹیچر کے ساتھ چھیڑخانی کی ہے۔

 

پھر ہم نے اس ویڈیو کی تفصیل سے تفتیش شروع کی۔تب ہمیں ایک ٹویٹر اکاؤنٹ ملا۔جہاں تقریباً دومہینے پہلے اسی دعوے کے ساتھ  کئی پوسٹ ملے۔ جس میں اسی طرح کا جملہ لکھاتھا۔

 

 

 

 

چھیڑخانی والےویڈیوکے بارے میں مزید تحقیقات شروع کی۔پھر ہم نےمختلف کیورڈس کے ذریعے گوگل سرچ کیا۔تب ہمیں دوہزار پندرہ میں شائع آج تک کی ایک خبرملی۔جس میں لکھا تھا کی گجرات کے تاپی میں بی جے پی کےایک کارکن نےکمپیوٹرٹیچرکا جبراً بوسہ لیاتھا۔جس کے بعد اس کا یہ گھنونہ ویڈیو وائرل ہواتھا۔اس کارکن کا نام اجےراپوت ہی ہے۔راج پوت نَونِرمان سیوا تنظیم چلاتاہے۔وہ خود کو مہووا اسمبلی کےبی جے پی ایم ایل موہن ڈوڈیا کا پی اے بھی بتاتاہے۔

 

 

بتایا جارہاہے کہ اجے جس ادارے کوچلاتاہے۔وہاں آدیواسی بچوں کوکمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے۔جہاں ایک آدیواسی خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکی بچوں کو پڑھاتی ہے۔جس کے ساتھ اجے راج پوت پراس گھنونے کام کو انجام دینے کاالزام لگایاگیاتھا۔جس کے بعد تمام میڈیا میں اجے راج پوت کو بی جے پی کالیڈربتایاگیاتھا۔

 

اتناہی نہیں جب ہم نے مزید تحقیقات شروع کی۔تب ہمیں گجراتی اخباردیویا بھاسکر میں اکتیس مئی دوہزارپندرہ کوشائع ایک خبرملی۔جس میں لکھاہے کہ بی جے پی نے پریس کانفرنس کرکے واضح کردیا تھاکہ اجےراج پوت کا بی جے پی سے کسی بھی طرح کاکوئی تعلق نہیں ہے۔کانفرنس میں مزید کہاگیاتھاکہ اجے راج پوت نے بی جے پی لیڈر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیاہے۔اس لئے اجے کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

 

وہیں دوسری جانب ایک مقامی چینل کا ویڈیو ملا۔جس میں یہ دکھایا گیاہےکہ اجے راجپوت کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

 

اب ان ساری تحقیقات سے صاف واضح ہوتاہےکہ یہ معاملہ دوہزار انیس کا نہیں بلکہ چار سال پراناہے ۔جس کے ذریعے عوام میں بی جے پی کے خلاف بھرم پھیلایا جارہا ہے۔

 

 

 

     ٹولس کا استعمال

  • فیس بُک سرچ
  • ٹویٹر ایڈوانس سرچ
  • گوگل کیورڈس سرچ

            نتائج:گمراکُن

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular