بدھ, جنوری 19, 2022
بدھ, جنوری 19, 2022
HomeFact CheckWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 5 اہم تحقیقات یہاں پڑھیں

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 5 اہم تحقیقات یہاں پڑھیں

اس ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ پر کئے گئے 5 اہم تحقیقاتی رپورٹ مختصراً درج ذیل کے سلائڈ میں پڑھ سکتے ہیں۔ جو اس ہفتے سوشل میڈیا پر صارفین نے کافی شیئر کیا تھا۔

حضرت محمدﷺ کی سینڈل کی نہیں ہے یہ وائرل تصویر

اس ہفتے کی شروعات میں سوشل میڈیا پر ایک سینڈل کی تصویر نےخوب سرخیاں بٹوری۔ جس کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یہ سینڈل حضرت محمدﷺ کی ہے۔ جبکہ یہ تصویر آپؐ کی نہیں ہے، بلکہ سوڈان سے ارنسٹ مارنو نامی شخص نے اس سینڈل کو اکٹھا کیا تھا، جو اب آسٹریا کے میوزیم میں محفوض ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔

کیا یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ کو اسٹیج پر کیا رسوا؟

اس ہفتے ہندی کیپشن کے ساتھ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ویڈیو خوب شیئر کیا گیا۔ جس کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یوپی کے سی ایم یوگی نے اپنے نائب سی ایم کیشو پرساد موریہ کو بھری محفل میں رسوا کیا۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ ویڈیو میں جس شخص سی ایم یوگی ڈانٹ رہے ہیں وہ کیشوپرساد موریہ نہیں ہے، بلکہ اس کا نام ویبھراٹھ چند کوشک ہے۔

یہاں پڑھیں پوری پڑتال۔۔۔

جاپان کی نئی ٹیکنالوجی والی ٹرین کا نہیں ہے یہ وائرل ویڈیو

اس ہفتے جاپان کی نئی ٹیکنالوجی سے منسوب کرکے ٹرینوں کا ایک ویڈیو شیئر کیاگیا۔ ویڈیو میں ٹرینیں کبھی ایک ٹرین کے اوپر سے تو کبھی نیچے سے تو کبھی ٹرین کے درمیان سے گذرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ صارف نے ویڈیو کے ساتھ عربی کیپشن لکھا ہے، جس کا ترجمہ ہے کہ “جاپان کی اس ٹرین میں بہت ہی ایڈوانس ٹیکنالوجی موجود ہے”۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ ویڈیو ایمینشن کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔۔۔۔

بودھ راہب کی لاش کی اس تصویر کو فرضی دعوے کے ساتھ کیا جا رہا ہے شیئر

 بودھ راہب کی ایک تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ بودھ راہب کی یہ ممی ہے، جو سو سال پرانا اور اس کے زندہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ بودھ راہب کی لاش سو سال پرانی نہیں ہے اور نا ہی ان کی لاش کے پاس سے کوئی نوٹ ملا ہے، بلکہ تصویر میں نظر آ رہے بودھ راہب کا نام لوانگ پھور پیان ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

اسکول پر روہنگیاؤں کے قبضے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو دہلی کا نہیں ہے

اس ہفتے سوشل میڈیا دہلی کے وزیر اعلیٰ کی سرکار سے منسوب کرکے ایک ویڈیو خوب شیئر کیا گیا۔ جس میں صارف کا دعویٰ تھا کہ کیجری وال سرکار میں دہلی سرکاری اسکولوں کو اب مدرسے میں بدلا جا رہا ہے۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ ‘دہلی کے روہنگیاؤں کا اسکول پر قبضہ کرنے اور سرکاری اسکولوں کو مدرسہ بنا نے’ والے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو دہلی کا نہیں ہے، بلکہ غازی آباد کے وجے نگر کے ایک پرائمری اسکول کا ہے، جسے اب گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular