بدھ, دسمبر 7, 2022
بدھ, دسمبر 7, 2022

HomeFact CheckWeekly Wrap: پانچ منٹ میں پڑھیں اس ہفتے کی چار اہم تحقیقاتی...

Weekly Wrap: پانچ منٹ میں پڑھیں اس ہفتے کی چار اہم تحقیقاتی رپورٹ

اس ہفتے روس یوکرین جنگ سے متعلق سوشل میڈیا پر کئی پوسٹ شیئر کئے گئے۔ اس کے علاوہ انڈین ایئر لائنس میں ماڈلووں کے ریمپ واک کا بتاکر ایک ویڈیو شیئر کیا گیا۔ وہیں ایک لڑکی کی تصویر کو کابل کے حالیہ تعلیمی مرکز میں ہوئے دھماکےسے منسوب کرکے شیئر کیا گیا۔جس سے متعلق یہاں تحقیقاتی رپورٹ درج ذیل میں یک بعد دیگرے پڑھی جا سکتی ہیں۔

کیا یہ ویڈیو یوکرینی فوج کے روسی قافلے پر حملے کی ہے؟

فیس بک پر 2 منٹ 20 سکینڈ کی ایک ویڈیو کو یوکرین کی فوج کی طرف سے روسی قافلے پر حملے کا بتاکر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔ جبکہ تحقیقات کرنے پر پتا چلا کہ ویڈیو ایک گیم کی ہے۔ جسے سوفٹ ویئر کی مدد سے بنائی گئی ہے۔ پوری تحقیقات اس رپورٹ میں پڑھا جاسکتا ہے۔

یوکرین صدر زلنسکی کے خطاب کی یہ تصویر فرضی دعوے کے ساتھ ہوا وائرل

ٹویٹر پر یوکرین کے صدر زلنسکی کی ایک ویڈیو اور تصویر کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ یوکرین کے صدر ولاد میر زلنسکی اس ویڈیو کی ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ جنگ زدہ علاقے میں بے خوف و خطر پھرتے ہیں اور جنگ کے میدان میں فوج اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اور اس طرح وہ لوگوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ جبکہ تحقیقات سےت پتا چلا کہ ویڈیو اور تصویر یوکرینی صدر کے ہیڈکوارٹر میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔

جہاز میں ریمپ واک کی یہ ویڈیو انڈین ایئرلائنس کی نہیں ہے

سوشل میڈیا پر جہاز میں ریمپ واک کی ایک ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیو انڈین ایئرلائنز کی جانب سے مسافروں کی تفریح کے لیے خاتون ماڈلوں کے ایک پروگرام کا ہے۔ ۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ ویڈیو ایک چارٹر جہاز کی ہے۔ جہاں کھلاڑیوں کی تفریح کے لئے فیشن شو کا انتظام کیا گیا تھا۔ بقیہ تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کیا 2022 کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچی لڑکی کی ہے یہ تصویر؟

سوشل میڈیا پر ایک زخمی لڑکی کی تصویر سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ یہ ستمبر 2022 میں کابل اسکول دھماکے میں زندہ بچ گئی تھی۔جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ تصویر پرانی ہے اور یہ لڑکی ایک ٹی وی چینل کی ملازمہ ہے۔بقیہ تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular