جمعرات, جولائی 25, 2024
جمعرات, جولائی 25, 2024

ہومFact CheckFact Check: برفانی چیتے کے ساتھ نظر آرہی لڑکی کی یہ تصویر...

Fact Check: برفانی چیتے کے ساتھ نظر آرہی لڑکی کی یہ تصویر کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کی گئی ہے

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim

سوشل میڈیا پر برفانی چیتے کے ساتھ بیٹھی بچی کی ایک تصویر سوشل نٹورکنگ سائٹس فیس بک، انسٹاگرام اور کئی مستند ایکس ہینڈل سے شیئر کی جا رہی ہے۔صارفین کا دعویٰ ہے کہ درندے جانور کے ساتھ بیٹھی اس لڑکی کا نام گلمینہ ہے، یہ گلگت بلتستان کے علاقے شمشال کی تحصیل مدن میں رہتی ہے۔ برفانی چیتے کو لڑکی نے بلی کا بچہ سمجھ کر پالا تھا اب یہ چیتا بڑا ہو گیا ہے اور پہاڑوں پر رہتا ہے، لیکن اس بچی کو ملنے کبھی کبھار آتا ہے۔

برفانی چیتے کے ساتھ بیٹھی بچی کی یہ تصویر مصنوعی ہے۔
Courtesy: X @FJkhan27

Fact

ہم نے برفانی چیتے کے ساتھ نظر آرہی بچی کی تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں پاکستان تنظیم اسنو لیوپارڈ فاؤڈیشن نامی فیس بک پیج پر یہی تصویر ملی۔ جس میں اس وائرل تصویر کو اے آئی کی مدد سے تیار کردہ بتایا گیا ہے۔

Courtesy: Facebook/ slfpak

مزید سرچ کیا تو ہمیں 24 مارچ 2024 کو شیئر شدہ بابرک نامی انسٹاگرام پر ہوبہو تصویر ملی۔ جس میں لڑکی کا نام شیرین بتایا گیا ہے۔ تصویر کو غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس تصویر کو بابرک نامی آرٹسٹ نے ایف پی-01 مڈ جرنی نامی سوفٹ ویئر کی مدد سے تیار کیا ہے۔ مزید ہم نے مڈجرنی نامی ویب سائٹ کو کھنگالا، تو معلوم ہوا کہ مڈجرنی ایک آزاد تحقیقی لیبارٹری ہے، جو انسان کے تخیل کو وسعت دیتی ہے اور یہ ڈیزائن، انسانی انفراسٹرکچر و اے آئی پر کام کرتی پے۔

Courtesy: Instagram @babrakk

لہٰذا ہماری تحقیقات سے واضح ہوگیا کہ برفانی چیتے کے ساتھ نظر آرہی بچی کی تصویر کو کمپیوٹر جنریٹڈ سافٹ ویئر کی مدد سے بنایا گیا ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Result: False

Sources
Facebook post
Instagram post by Babrakk on 24 March 2024


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Most Popular