جمعہ, جون 14, 2024
جمعہ, جون 14, 2024

ہومFact CheckWeekly Wrap:اس ہفتے برفباری سے متعلق وائرل ہونے والے پوسٹ کی 5...

Weekly Wrap:اس ہفتے برفباری سے متعلق وائرل ہونے والے پوسٹ کی 5 اہم تحقیقاتی رپورٹ پڑھیں

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

دنیا بھر کے کئی ممالک میں ان دنوں منفی درجہ حرارت کی وجہ سے سخت برفباری ہو رہی ہے۔ جس کے باعث طرح طرح کے تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر مختلف مقامات بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان دنوں کچھ تصاویر کو مکہ مکرمہ، تبوک اور جبل اللوز پہاڑی علاقےمیں ہوئی برفباری کا بتاکر شیئر کیا گیا۔ وہیں ٹائم لیپس ویڈیو کو حالیہ امریکہ میں ہوئی برفباری کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔ جس کا شارٹ فیکٹ چیک یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

کیا مسجد الحرام میں 1 جنوری 2023 کو ہوئی شدید برفباری؟

اس ہفتے مسجد الحرام میں 1 جنوری 2023 کو ہوئی پہلی برفباری کا بتاکر ویڈیو خوب شیئر کی گئی۔ تحقیقات سے معلوم ہواکہ ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعوی فرضی ہے۔سعودی حکومت نے اس بات کی تصدیق بھی کیا کہ مسجد الحرام سے متعلق کیا دعوے میں کسی بھی طرح کی صداقت نہیں ہے۔بقیہ تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کیا سعودی عرب کے شہر تبوک میں تازہ برفباری کی ہے یہ تصویر؟

پہاڑ پر برف اور کچھ اونٹ والی تصویر کو 25 دسمبر 2022 کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہوئی تازہ برفباری کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔جب ہم نے اس بارے میں تحقیقات کیا تو معلوم ہوا کہ تصویر 2013 میں کوہالشفا میں ہوئی برفباری کی ہے۔پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کیا برفیلی چادر سے ڈھکی پہاڑی کی یہ تصویر جبل اللوز علاقے کی ہے؟

برف سے ڈھکی پہاڑی کی ایک تصویر کو سعودی عرب کے جبل اللوز علاقے میں موجود پہاڑی کا بتاکر شیئر کیا گیا ۔ ہم اس کی تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ تصویر پرانی ہے اور نیوزی لینڈ کی ہے۔ جسے تازہ برفباری کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔ پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔

کیا یہ ویڈیو امریکہ میں حالیہ برفانی طوفان کی ہے؟

اس ہفتے ایک ٹائم لیپس کا ویڈیو خوب شیئر کیا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ امریکہ میں حالیہ برفانی طوفان کی ویڈیو ہے۔ جبکہ تحقیقات سے پتاچلا کہ ویڈیو پرانی ہے اور تازپ برفباری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پوری تحقیقات یہاں پرھیں۔

کیا یہ گلگت بلتستان کی پہاڑی ہے؟

ایک پہاڑ کی تصویر سے متعلق دعویٰ کیا گیا کہ یہ منظر گلگت بلتسان کی پہاڑی پر ہوئی تازہ برفباری کی ہے۔ہم نے جب اس تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کی مدد سے تلاشا تو معلوم ہوا کہ اس تصویر کو نیدرلینڈ کے مارٹن اسکرائجور نے فوٹو شاپ کی مدد سے تیار کیا ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔ 9999499044

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular