بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduلال قلعہ کے تعلق سےکیوں گمراہ کیاجارہاہےہندوستانی عوام کو۔پڑھیئے ہماری تحقیق

لال قلعہ کے تعلق سےکیوں گمراہ کیاجارہاہےہندوستانی عوام کو۔پڑھیئے ہماری تحقیق

 

دعویٰ

کہتے ہیں تاریخ وہی لکھتاہے۔جس کی حکومت ہواور بھارت تو ایک ہزار سال غلام رہاہے۔دہلی لال قعلہ کس نے بنوایا تھا تو پوچھنے پر لوگ کہیں گے شاہجہاں۔لیکن سولہ سواٹھائیس میں شاہ جہاں کی حکومت بنی اور سولہ سو اٹھائیس میں ہی لال قلعہ میں فارس کے سفیر کا استقبال شاہ جہاں نے کیا۔اگر لال قلعہ سولہ سو انتالیس میں تعمیر کی گئی تو شاہ جہاں  سولہ سو اٹھائیس میں کیا کررہاتھا۔

 

تصدیق

ٹویٹر پر ان دنوں لال قلعہ کو لے کردعویٰ کیاجارہاہے کہ ہندوستان تو ایک ہزار سال تک مغل کا غلام رہا۔دعویٰ میں یہ بھی لکھا گیاہے کہ اگر کسی سے پوچھا جائے کہ دہلی کا لال قلعہ کسنے تعمیر کروایا ہےتو لوگ بے ساختہ بول پڑیں گے شاہجہاں دعویٰ میں یہ لکھا گیا کہ سولہ سو اٹھائیس میں شاہ جہاں کی حکومت بنی تھی اور سولہ سواٹھائیس میں ہی شاہ جہاں نے لال قلعہ  میں فارس کے سفیر کا استقبال کیا تھا۔ جبکہ لال قلعہ سولہ سوانتالیس میں تعمیر کیا گیا۔ اس دوران شاہ جہاں سولہ سو اٹھائیس میں وہاں کیا کررہے تھے؟اس ٹویٹ کو اب تک ایک سو تئیس افراد نے ری ٹویٹ کیا ہے۔جبکہ دوسو بانوے لوگوں نے لائک کیاہے۔

 

 ہماری تحقیق

اس وائرل خبر کو پڑھنے کےبعد ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔جہاں ہم نے کچھ کیورڈ کے سہارے یوٹیوب سرچ کیا۔تب ہمیں اس تعلق سے  راجیہ سبھا ٹی وی اور دور درشن کے یوٹیوب چینل پر دو ویڈیو ملے۔جس میں کہا گیاہے کہ لال قلعہ کی سنگ بنیاد سولہ سو انتالیس میں رکھی گئی تھی۔جبکہ نوسال میں  اس قلعے کی تعمیر مکمل ہوئی۔

 

 

 

ان تحقیقات کے باوجود ہم نے مزید کھوج جاری رکھی۔ جہاں ہمیں قومی آواز میں ایک خبر ملی۔جس میں لکھا ہے کہ پانچویں مغل بادشاہ شہاب الدین محمد خرم، جو کہ شاہجہاں کے نام سے زیادہ مشہور ہوئےاور1628 میں تخت نشین ہوئے تھے۔ ان کی حکمرانی آگرہ کے قلعہ سے شروع ہوئی تھی لیکن کچھ دنوں بعد جب مغل سلطنت کا دائرہ کافی بڑھ گیا تو شاہجہاں کو جگہ کی کمی کا احساس ہوا۔ انھیں محسوس ہوا کہ امیر، نواب، دوسری ریاستوں کے بادشاہ اور ان کے ساتھ آنے والی خواتین کے قیام میں پریشانیاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے شاہجہاں نے طے کیا کہ وہ دہلی میں ایک قلعہ تعمیر کرائیں گے جو عظیم الشان بھی ہوگا اور آس پاس کے علاقوں میں سبزہ و ہریالی بھی ہوگی۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 1639 میں دہلی کے قلعہ کی بنیاد رکھی گئی۔ وہیں آج تک کے ویب سائٹ پر لال قلعہ کے تعلق سے تفصیل سے لکھا ہے۔

 

تمام تر تحقیقات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ لال قلعے کے تعلق سے پھیلائی گئی خبر غلط  ہے۔لوگوں میں بدگمانی پیدا کرنے کے لئے انامیکا نامی ٹویٹر ہینڈل سے اس جھوٹی خبر کو پوسٹ کیاگیاہے۔تاکہ عوام گمراہ ہو۔

ٹولس کا استعما

گوگل کیورڈ سرچ

گوگل ریورس سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج:غلط خبر

 

نوٹ:۔ اگرآپ ہمارے ریسرچ پراتفاق نہیں رکھتے ہیں یا آپ کے پاس ایسی کوئی جانکاری ہے جس پر آپ کو شک ہےتو آپ ہمیں نیچے دیگئی ای میل آڈی پر بھیج سکتے ہیں۔

checkthis@newschecker.in

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular