پیر, جنوری 17, 2022
پیر, جنوری 17, 2022
HomeFact Check2021میں 10 سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اردو فیکٹ چیک

2021میں 10 سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اردو فیکٹ چیک

سال 2021 بہت اتار چڑھاؤ بھرا رہا۔ اس سال بھی وبائی امراض نے تباہی مچائی اور اس کے ساتھ ہی بہت سے ایسے حادثات و واقعات پیش آئے جنہیں ہم فراموش نہیں کر سکتے جیسے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی اچانک اور المناک موت۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں جتنی زیادہ خبریں ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ فرضی خبریں بھی گردش ہوتی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کچھ جان بوجھ کر شر پھیلانے کے لئے یا کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لئے شیئر کی جاتی ہیں مگر زیادہ تر محض معلومات کی کمی کے باعث پھیل جاتی ہیں۔

سال 2021 میں کہاں تک رہی فرضی خبروں/غلط معلومات کی پہنچ؟

سال 2021 میں مذہب، سیاست، کرونا و افغانستان پر طالبان کے قبضے جیسے موضوع پر فرضی خبروں نے اپنی پکڑ بنائے رکھی۔ سب سے زیادہ دعوے کرونا وائرس و اس کی ویکسین سے متعلق پائے گئے۔ ویکسین لگنے کے 2 سال بعد موت کا دعویٰ ہو یا 5 جی کی وجہ سے کرونا کی دوسرے لہر آنے تک۔ اس کے علاوہ مذہب و سیاست پر بھی غلط معلومات کا کافی اثر دیکھنے کو ملا۔

:مندرجہ ذیل میں ٹاپ 10 ایسے فیکٹ چیک ہیں جنہیں نیوزچیکر نے سال 2021 میں ڈیبنک کیا تھا

گستاخِ رسولؐ نرسمہانند سرسوتی کو پولس نے کیا گرفتار؟

اس سال ہندو تنظیم سے تعلق رکھنے والے متنازع شخص نرسمہانند سے متعلق کئی پوسٹ شیئر کی گئیں۔ جن میں ایک ویڈیو اپریل ماہ میں خوب وائرل ہوا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا شخص نرسمہانند سرسوتی کو پولس نے آخر کار گرفتار کر ہی لیا۔ لیکن تحقیقات سے پتا چلا کہ نرسمہانند سرسوتی کی گرفتاری والا وائرل ویڈیو کم از کم 8 مہینے پرانا تھا۔ مذکورہ سبھی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی پولس نے نرسمہانند کو جلد سے جلد حاضر ہونے کا سمن بھیجا تھا۔ لیکن ان کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ حال کے دنوں میں بھی نرسمہانند اپنے بیانوں کو لے کر چرچا میں ہیں۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔

کیا برفباری کے بعد طلوع آفتاب کا منظر کشمیر کا ہے؟

سال 2021 کی جنوری ماہ میں ایک برفباری کےدوران طلوع آفتاف کی تصویر وائرل ہوئی۔ جس کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ اس تصویر میں نظر آ رہا منظر کشمیر میں برفباری کے بعد طلوع آفتاب کا ہے۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ برفباری کے بعد طلوع آفتاب کی تصویر کشمیر کی نہیں ہے۔ بلکہ سویڈین کے لیکسلے کی ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

کیا کرونا ویکسین لگنے کے 2 سال کے اندر موت ہو جائے گی؟

مئی کے آخری ہفتے میں ایک اخبار کی کٹنگ خوب شیئر کی گئی۔ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کرونا ویکسین لگنے کے 2 سال کے اندر لوگوں کی موت ہو جائےگی۔ یہ دعویٰ “نوبل انعام یافتہ لوک مونٹاگنیئر نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ انہوں نے ویکسینیشن مہم کو ایک ناقابل قبول غلطی بتایا ہے”۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ لوک مونٹاگنیئر کے حوالے سے ویکسین لگنے کے 2 سال کے اندر موت ہونے والا وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ شمس نیوز نے جس لائف سائٹ نیوز کا حوالہ دے کر خبر شائع کی تھی۔ اس میں ویکسین لگنے کے دو سال کے اندر موت والے دعوے کا ذکر ہی نہیں کیا گیا تھا۔

یہاں پڑھیں پوری پڑتال۔۔۔

کیا 5 جی نیٹورک ٹیسٹنگ کی وجہ سے آئی کووڈ-19 کی دوسری لہر؟

اپریل ماہ میں 5 جی سے متعلق کافی افواہیں پھیلائی گئیں۔ جن میں ایک فیس بک یوزر نے چند تصاویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا تھا کہ 5 جی نیٹورک ٹیسٹنگ کی وجہ سے کرونا وائرل کی دوسری لہر آئی ہے۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ 5 جی نیٹورک ٹیسٹنگ کے حوالے سے کیا گیا دعویٰ بے بنیاد تھا۔ بھارت میں اس وقت 5 جی ٹیسٹنگ کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے یہ کہنا غلط تھا کہ بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر 5 جی ٹیسٹنگ کی وجہ سے آئی ہے۔

یہاں پڑھیں پوری پڑتال۔۔۔

کیا سعودی عرب سے بھیجے گئے آکسیجن ٹینکر کو اپنا نام دے رہا ہے ریلائنس گروپ؟

مئی ماہ میں سوشل میڈیا پر ریلائنس اور سعودی عرب کے حوالے سے کچھ تصاویر اور ویڈیو خوب شیئر کی گئیں۔ جس میں آکسیجن ٹینکر نظر آرہے تھے، جس پر سعودی عرب کا قومی پرچم اور ریلائنس کا اسٹیکر لگا ہوا تھا۔ یوزر کا دعویٰ تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے بھیجے گئے آکسیجن ٹینکر پر ریلائنس گروپ اپنا اسٹیکر لگا کر کریڈٹ لے رہا ہے۔ وائرل تصویر اور ویڈیو کو مختلف زبان کے کیپشن کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا تھا۔ لیکن جب اس کی تحقیقات کی گئی تو پتا چلا کہ ریلائنس گروپ نے سعودی عرب کی جانب سے عطیہ کئے گئے ٹینکرس پر اپنی کمپنی کا اسٹیکر نہیں لگایا ہے، بلکہ سعودی عرب سے منگواۓ گئے خالی ٹینکرس پر اپنا اسٹیکر لگایا تھا، جس کے ذریعے ریلائنس کمپنی میں تیار ہوئے آکسیجن کو لوگوں تک پہنچایا گیا ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ دو مختلف خبروں کو جوڑ کر گمراہ کن دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

کیا اسدالدین اویسی نے ٹرین کے ذریعے بھیجا آکسیجن ٹینکر؟ 

اپریل ماہ میں جب کرونا کی دوسری لہر نے ملک بھر میں قہر برپا کر رکھا تھا، ایسے میں آکسیجن نا ملنے کی وجہ سے بھاری تعداد میں لوگوں کی اموات ہوئی تھی۔ اسی کے پیش نظر ایک ویڈیو خوب شیئر کیا گیا۔ صارف نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کی جانب سے آکسیجن ٹینکر مدد کے طور پر بھیجا گیا۔ جبکہ تحقیقات سے پتا چلا کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہا آکسیجن ٹینکر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے نہیں بھیجا گیا تھا، بلکہ یہ 7 خالی ٹینکروں کو مہاراشٹر سے وشاخاپٹنم آکسیجن کے لئے آکسیجن ایکسپریس سے 19 اپریل 2021 کو بھیجا گیا تھا۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

خانہ کعبہ میں یہودیوں کے طواف کا یہ ویڈیو نہیں ہے

اکتوبر ماہ میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے لوگوں کا ایک ویڈیو واہٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر پر خوب شیئر کیا گیا تھا۔ صارفین نے ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ خانہ کعبہ میں یہودی نے طواف کیا۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یوٹیوب پر ملی جانکاری کے مطابق یہ لوگ صوفیت کو ماننے والے ترکش مسلم ہیں۔ 

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

کیا شمشان میں جلائے جارہے مُردوں کی یہ وائرل تصویر کمبھ میلے کی ہے؟ 

کرونا کی دوسری لہر میں ہوئی اموات کے بعد جو شمشان گھاٹ کا نظارہ تھا وہ بہت ہی افسوس ناک تھا۔ اسی کے پیش نظر ایک تصویر خوب شیئر کی گئی۔جس کا فیکٹ چیک نیوز چیکر اردو کی ٹیم نے کیا اور اسے لوگوں نے خوب پڑھا۔ وائرل تصویر کو کمبھ میلے کا بتاکر شیئر کیا گیا۔ جبکہ تحقیقات سے واضح ہوا کہ تصویر پرانی ہے اور اس تصویر کا تعلق کمبھ سے نہیں ہے۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔۔۔۔

زخمی لڑکی کی پرانی تصویر کو کابل ایئرپورٹ دھماکے سے جوڑ کر کیا جا رہا شیئر

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد متعد ویڈیو اور تصاویر فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ جن میں ایک تصویر زخمی لڑکی کی تھی، جس پر ہماری ٹیم نے تحقیقات کی تو پتا چلا کہ پرانی تصویر کو گمراہ کن دعوے کے ساتھ خوب شیئر کیا گیا۔ زخمی لڑکی کی تصویر 10 سال پرانی ہے۔ اس تصویر کا کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔

کیا خان سَر اصل میں امت سنگھ ہیں؟

سال 2021 میں بہار کے خان سر خوب چرچا میں رہے۔ ان کے کئی ویڈیو کو مختلف دعوے کے ساتھ خوب شیئر کیا گیا۔ ٹویٹر پر خان سر کو خوب ٹرول کیا گیا۔ صارفین کا دعویٰ تھا کہ خان سر اصل میں امت سنگھ ہے۔ ان وائرل پوسٹ پر کئے گئے فیکٹ چیک کو بھی لوگوں نے کافی پڑھا۔ جب ہم نے اس کی تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ان کا نام امت سنگھ نہیں ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔۔۔


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular